حدیث ۲۳۰۵
سنن نسائی : ۲۳۰۵
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۳۰۵
أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا عَمْرٌو ، وَذَكَرَ آخَرَ ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِي مُرَاوِحٍ ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو ، أَنَّهُ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَجِدُ فِيَّ قُوَّةً عَلَى الصِّيَامِ فِي السَّفَرِ فَهَلْ عَلَيَّ جُنَاحٌ ؟ قَالَ : " هِيَ رُخْصَةٌ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، فَمَنْ أَخَذَ بِهَا فَحَسَنٌ ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَصُومَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ " .
´حمزہ بن عمرو رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: میں اپنے اندر سفر میں روزہ رکھنے کی طاقت پاتا ہوں، تو کیا (اگر میں روزہ رکھوں تو) مجھ پر گناہ ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اللہ عزوجل کی جانب سے رخصت ہے، تو جس نے اس رخصت کو اختیار کیا تو یہ اچھا ہے، اور جو روزہ رکھنا چاہے تو اس پر کوئی حرج نہیں“۔
