حدیث ۲۳۸۸
سنن نسائی : ۲۳۸۸
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۳۸۸
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي عَمَّارٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ ، قَالَ : أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ , فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ! مَا تَقُولُ فِي رَجُلٍ صَامَ الدَّهْرَ كُلَّهُ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَدِدْتُ أَنَّهُ لَمْ يَطْعَمِ الدَّهْرَ شَيْئًا " ، قَالَ : فَثُلُثَيْهِ ، قَالَ : " أَكْثَرَ " ، قَالَ : فَنِصْفَهُ ، قَالَ : " أَكْثَرَ " ، قَالَ : " أَفَلَا أُخْبِرُكُمْ بِمَا يُذْهِبُ وَحَرَ الصَّدْرِ " ، قَالُوا : بَلَى ، قَالَ : " صِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ " .
´عمرو بن شرحبیل کہتے ہیں کہ` ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! آپ اس شخص کے بارے میں کیا فرماتے ہیں جو صیام الدھر رکھے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تو یہ چاہوں گا کہ کبھی کچھ کھائے ہی نہ“، اس نے کہا: اس کا دو تہائی رکھے تو؟ آپ نے فرمایا: ”زیادہ ہے“، اس نے کہا: آدھے ایام رکھے تو؟ آپ نے فرمایا: ”زیادہ ہے“، پھر آپ نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں وہ چیز نہ بتاؤں جو سینے کی سوزش کو ختم کر دے“، لوگوں نے کہا: جی ہاں (ضرور بتائیے) آپ نے فرمایا: ”یہ ہر مہینے میں تین دن کا روزہ ہے“۔
