سنن نسائی حدیث ۳۱۰۳ - آیت جہاد میں معذور کی رعایت
جہاد کے حکم میں معذور کے لیے رخصت
سنن نسائی : ۳۱۰۳
سنن نسائیحدیث نمبر ۳۱۰۳
أَخْبَرَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ الْبَرَاءِ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ ذَكَرَ كَلِمَةً مَعْنَاهَا قَالَ : " ائْتُونِي بِالْكَتِفِ وَاللَّوْحِ ، فَكَتَبَ لا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ سورة النساء آية 95 وَعَمْرُو بْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ ، خَلْفَهُ ، فَقَالَ : هَلْ لِي رُخْصَةٌ فَنَزَلَتْ : غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ سورة النساء آية 95 " .
براء روایت:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (فرمایا: کیا فرمایا؟ وہ الفاظ راوی کو یاد نہیں رہے لیکن) وہ کچھ ایسے الفاظ تھے جن کے معنی یہ نکلتے تھے: شانے کی ہڈی، تختی (کچھ) لاؤ۔ (جب وہ آ گئی تو اس پر لکھا یا) چنانچہ (زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے) لکھا: «لا يستوي القاعدون من المؤمنين» اور عمرو بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ آپ کے پیچھے موجود تھے۔ (وہ اندھے تھے۔ اسی مناسبت سے) انہوں نے کہا: کیا میرے لیے رخصت ہے؟ (میں معذور ہوں، جہاد نہیں کر پاؤں گا) تب یہ آیت «غير أولي الضرر» ”ضرر، نقصان و کمی والے کو یعنی مجبور، معذور کو چھوڑ کر“۔
سنن نسائی حدیث ۳۱۰۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لکھنے کے لیے کوئی چیز منگوائی، پھر آیت لا يستوي القاعدون من المؤمنين لکھی گئی۔ عمرو بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ آپ کے پیچھے موجود تھے اور وہ نابینا تھے۔ انہوں نے اپنی حالت کے بارے میں پوچھا کہ کیا میرے لیے رخصت ہے؟ اس کے بعد آیت کا حصہ غير أولي الضرر نازل ہوا۔ اس حدیث سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ دینی حکم سب کے لیے عدل کے ساتھ آتا ہے۔ جو شخص واقعی معذور ہو، اس کی مجبوری کا لحاظ کیا جاتا ہے۔ یہاں جہاد کی فضیلت بھی بیان ہوئی اور معذور کی رخصت بھی واضح ہوئی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- شرعی احکام میں حقیقی عذر کا اعتبار کیا جاتا ہے۔
- صحابہ اپنی معذوری کے باوجود نیکی کی خواہش رکھتے تھے۔
- قرآن کے احکام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں لکھوائے جاتے تھے۔
- اللہ تعالیٰ نے معذور اہل ایمان کو خاص رعایت دی۔
