حدیث ۳۳۱۹
سنن نسائی : ۳۳۱۹
سنن نسائیحدیث نمبر ۳۳۱۹
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، وَهِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ , عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : اسْتَأْذَنَ عَلَيَّ عَمِّي أَفْلَحُ بَعْدَمَا نَزَلَ الْحِجَابُ ، فَلَمْ آذَنْ لَهُ ، فَأَتَانِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَأَلْتُهُ ، فَقَالَ : " ائْذَنِي لَهُ ، فَإِنَّهُ عَمُّكِ " , قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّمَا أَرْضَعَتْنِي الْمَرْأَةُ ، وَلَمْ يُرْضِعْنِي الرَّجُلُ ، قَالَ : " ائْذَنِي لَهُ تَرِبَتْ يَمِينُكِ فَإِنَّهُ عَمُّكِ " .
´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` میرے چچا افلح نے پردہ کی آیت کے اترنے کے بعد میرے پاس آنے کی اجازت طلب کی، تو میں نے انہیں اجازت نہیں دی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، تو میں نے آپ سے اس بارے میں پوچھا۔ آپ نے فرمایا: ”انہیں اجازت دو کیونکہ وہ تمہارے چچا ہیں“، میں نے کہا: اللہ کے رسول! مجھے تو عورت نے دودھ پلایا ہے مرد نے نہیں پلایا ہے (وہ میرے محرم کیسے ہو گئے)، آپ نے فرمایا: ”تم انہیں (اندر) آنے کی اجازت دو، تمہارے ہاتھ میں مٹی لگے (تمہیں نہیں معلوم؟) وہ تمہارے چچا ہیں“۔
