حدیث ۳۶۶۱
سنن نسائی : ۳۶۶۱
سنن نسائیحدیث نمبر ۳۶۶۱
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، قَالَ : عَادَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِي ، فَقَالَ : " أَوْصَيْتَ ؟ " قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : " بِكَمْ قُلْتُ ؟ " بِمَالِي كُلِّهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، قَالَ : " فَمَا تَرَكْتَ لِوَلَدِكَ ؟ " قُلْتُ : هُمْ أَغْنِيَاءُ ، قَالَ : " أَوْصِ بِالْعُشْرِ " ، فَمَا زَالَ يَقُولُ : وَأَقُولُ : حَتَّى قَالَ : " أَوْصِ بِالثُّلُثِ ، وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ أَوْ كَبِيرٌ " .
´سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` میری بیماری میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس بیمار پرسی کرنے آئے۔ آپ نے فرمایا: ”تم نے وصیت کر دی؟“ میں نے کہا: جی ہاں کر دی، آپ نے فرمایا: ”کتنی؟“ میں نے کہا: اپنا سارا مال اللہ کی راہ میں دے دیا ہے۔ آپ نے پوچھا: ”اپنی اولاد کیلئے کیا چھوڑا؟“ میں نے کہا: وہ سب مالدار و بے نیاز ہیں، آپ نے فرمایا: ”دسویں حصے کی وصیت کرو“، پھر برابر آپ یہی کہتے رہے اور میں بھی کہتا رہا ۱؎ آپ نے فرمایا: ”اچھا تہائی کی وصیت کر لو، اگرچہ ایک تہائی بھی زیادہ یا بڑا حصہ ہے“۔
