حدیث ۳۸۹۲
سنن نسائی : ۳۸۹۲
سنن نسائیحدیث نمبر ۳۸۹۲
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا حِبَّانُ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قِرَاءَةً ، قَالَ : قُلْتُ لِعَطَاءٍ : عَبْدٌ أُؤَاجِرُهُ سَنَةً بِطَعَامِهِ ، وَسَنَةً أُخْرَى بِكَذَا وَكَذَا . قَالَ : " لَا بَأْسَ بِهِ وَيُجْزِئُهُ اشْتِرَاطُكَ حِينَ تُؤَاجِرُهُ أَيَّامًا أَوْ آجَرْتَهُ وَقَدْ مَضَى بَعْضُ السَّنَةِ " ، قَالَ : إِنَّكَ لَا تُحَاسِبُنِي لِمَا مَضَى .
´ابن جریج کہتے ہںي کہ` میں نے عطا سے کہا: اگر میں ایک غلام کو ایک سال کھانے کے بدلے اور ایک سال تک اتنے اور اتنے مال کے بدلے نوکر رکھوں (تو کیا حکم ہے)؟ انہوں نے کہا: کوئی حرج نہیں، اور جب تم اسے اجرت (مزدوری) پر رکھو تو اس کے لیے تمہارا اس وقت اتنا کہنا کافی ہے کہ اتنے دنوں تک اجرت (مزدوری) پر رکھوں گا۔ (ابن جریج نے کہا) یا اگر میں نے اجرت (مزدوری) پر رکھا اور سال کے کچھ دن گزر گئے ہوں؟ عطاء نے کہا: تم گزرے ہوئے دن کو شمار نہیں کرو گے۔
