حدیث ۴۰۷۸
سنن نسائی : ۴۰۷۸
سنن نسائیحدیث نمبر ۴۰۷۸
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُد ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ ، قَالَ : مَرَرْتُ عَلَى أَبِي بَكْرٍ وَهُوَ مُتَغَيِّظٌ عَلَى رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِهِ , فَقُلْتُ : يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللَّهِ ، مَنْ هَذَا الَّذِي تَغَيَّظُ عَلَيْهِ ؟ قَالَ : وَلِمَ تَسْأَلُ ؟ قُلْتُ : أَضْرِبُ عُنُقَهُ . قَالَ : فَوَاللَّهِ لَأَذْهَبَ عِظَمُ كَلِمَتِي غَضَبَهُ ، ثُمَّ قَالَ : " مَا كَانَتْ لِأَحَدٍ بَعْدَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
´ابوبرزہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرا، وہ اپنے ساتھیوں میں سے کسی پر غصہ ہو رہے تھے، میں نے کہا: اے رسول اللہ کے خلیفہ! یہ کون ہے جس پر آپ غصہ ہو رہے ہیں؟ کہا: آخر تم یہ کیوں پوچھ رہے ہو؟ میں نے کہا: تاکہ میں اس کی گردن اڑا دوں۔ ابوبرزہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! میری اس بات کی سنگینی نے ان کا غصہ ٹھنڈا کر دیا، پھر بولے: محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کا یہ مقام نہیں۔
