حدیث ۴۰۸۲

سنن نسائیحدیث نمبر ۴۰۸۲

أَخْبَرَنِي أَبُو دَاوُدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُطَرِّفِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ : كُنَّا عِنْدَ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ فَغَضِبَ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ، فَاشْتَدَّ غَضَبُهُ عَلَيْهِ جِدًّا ، فَلَمَّا رَأَيْتُ ذَلِكَ ، قُلْتُ : يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللَّهِ , أَضْرِبُ عُنُقَهُ . فَلَمَّا ذَكَرْتُ الْقَتْلَ أَضْرَبَ عَنْ ذَلِكَ الْحَدِيثِ أَجْمَعَ إِلَى غَيْرِ ذَلِكَ مِنَ النَّحْوِ , فَلَمَّا تَفَرَّقْنَا أَرْسَلَ إِلَيَّ ، فَقَالَ : يَا أَبَا بَرْزَةَ ، مَا قُلْتَ : وَنَسِيتُ الَّذِي ، قُلْتُ : قُلْتُ : ذَكِّرْنِيهِ ، قَالَ : أَمَا تَذْكُرُ مَا قُلْتَ ؟ ! ، قُلْتُ : لَا وَاللَّهِ ، قَالَ : أَرَأَيْتَ حِينَ رَأَيْتَنِي غَضِبْتُ عَلَى رَجُلٍ ؟ ، فَقُلْتَ : أَضْرِبُ عُنُقَهُ يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللَّهِ ، أَمَا تَذْكُرُ ذَلِكَ أَوَ كُنْتَ فَاعِلًا ذَلِكَ ، قُلْتُ : نَعَمْ , وَاللَّهِ وَالْآنَ إِنْ أَمَرْتَنِي فَعَلْتُ . قَالَ : " وَاللَّهِ مَا هِيَ لِأَحَدٍ بَعْدَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " . قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ : هَذَا الْحَدِيثُ أَحْسَنُ الْأَحَادِيثِ وَأَجْوَدُهَا , وَاللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ .

´ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ہم ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس تھے، آپ ایک مسلمان آدمی پر غصہ ہوئے اور آپ کا غصہ سخت ہو گیا، جب میں نے دیکھا تو عرض کیا کہ اے خلیفہ رسول! کیا میں اس کی گردن اڑا دوں؟ جب میں نے قتل کا نام لیا تو انہوں نے یہ ساری گفتگو بدل کر دوسری گفتگو شروع کر دی، پھر جب ہم جدا ہوئے تو مجھے بلا بھیجا اور کہا: ابوبرزہ! تم نے کیا کہا؟ میں نے جو کچھ کہا تھا وہ بھول چکا تھا، میں نے کہا: مجھے یاد دلائیے، تو آپ نے کہا: کیا تم نے جو کہا تھا وہ تمہیں یاد نہیں آ رہا ہے؟ میں نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! تو آپ نے کہا: جب مجھے ایک شخص پر غصہ ہوتے دیکھا تو کہا تھا: اے خلیفہ رسول! کیا میں اس کی گردن اڑا دوں؟ کیا یہ تمہیں یاد نہیں ہے؟ کیا تم ایسا کر گزرتے؟ میں نے کہا: جی ہاں، اللہ کی قسم! اگر آپ اب بھی حکم دیں تو میں کر گزروں، تو آپ نے کہا: اللہ کی قسم! محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اب کسی کا یہ مقام نہیں ہے۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: اس سے متعلق مروی احادیث میں یہ حدیث سب سے بہتر اور عمدہ ہے ۱؎۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں