حدیث ۴۶۹۰
سنن نسائی : ۴۶۹۰
سنن نسائیحدیث نمبر ۴۶۹۰
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عَمْرِو بْنِ هِنْدٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : كَانَتْ مَيْمُونَةُ تَدَّانُ وَتُكْثِرُ ، فَقَالَ لَهَا أَهْلُهَا فِي ذَلِكَ وَلَامُوهَا وَوَجَدُوا عَلَيْهَا ، فَقَالَتْ : لَا أَتْرُكُ الدَّيْنَ ، وَقَدْ سَمِعْتُ خَلِيلِي وَصَفِيِّي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَا مِنْ أَحَدٍ يَدَّانُ دَيْنًا فَعَلِمَ اللَّهُ أَنَّهُ يُرِيدُ قَضَاءَهُ إِلَّا أَدَّاهُ اللَّهُ عَنْهُ فِي الدُّنْيَا " .
´عمران بن حذیفہ کہتے ہیں کہ` ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا قرض لیا کرتی تھیں اور کثرت سے لیا کرتی تھیں، تو ان کے گھر والوں نے اس سلسلے میں ان سے گفتگو کی اور ان کو برا بھلا کہا اور ان پر غصہ ہوئے تو وہ بولیں: میں قرض لینا نہیں چھوڑوں گی، میں نے اپنے خلیل اور محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو بھی کوئی قرض لیتا ہے اور اللہ کو معلوم ہوتا ہے کہ وہ قرض ادا کرنے کی فکر میں ہے تو اللہ تعالیٰ اس کا قرض دنیا میں ادا کر دیتا ہے“۔
