حدیث ۵۱۴۵
سنن نسائی : ۵۱۴۵
سنن نسائیحدیث نمبر ۵۱۴۵
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ شَاهِينَ الْوَاسِطِيُّ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا خَالِدٌ ، عَنْ مُطَرِّفٍ . ح وَأَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ أَبِي الْجَهْمِ ، عَنْ أَبِي زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : كُنْتُ قَاعِدًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَتَتْهُ امْرَأَةٌ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , سِوَارَيْنِ مِنْ ذَهَبٍ ، قَالَ : " سِوَارَانِ مِنْ نَارٍ " ، قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , طَوْقٌ مِنْ ذَهَبٍ , قَالَ : " طَوْقٌ مِنْ نَارٍ " ، قَالَتْ : قُرْطَيْنِ مِنْ ذَهَبٍ , قَالَ : " قُرْطَيْنِ مِنْ نَارٍ " ، قَالَ : وَكَانَ عَلَيْهِمَا سِوَارَانِ مِنْ ذَهَبٍ ، فَرَمَتْ بِهِمَا ، قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ الْمَرْأَةَ إِذَا لَمْ تَتَزَيَّنْ لِزَوْجِهَا صَلِفَتْ عِنْدَهُ ، قَالَ : " مَا يَمْنَعُ إِحْدَاكُنَّ أَنْ تَصْنَعَ قُرْطَيْنِ مِنْ فِضَّةٍ ثُمَّ تُصَفِّرَهُ بِزَعْفَرَانٍ ، أَوْ بِعَبِيرٍ " . اللَّفْظُ لِابْنِ حَرْبٍ .
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک عورت نے آپ کے پاس آ کر کہا: اللہ کے رسول! میرے پاس سونے کے دو کنگن ہیں، آپ نے فرمایا: ”آگ کے دو کنگن ہیں“ وہ بولی: اللہ کے رسول! سونے کا ہار ہے، آپ نے فرمایا ”آگ کا ہار ہے“، وہ بولی: سونے کی دو بالیاں ہیں، آپ نے فرمایا: ”آگ کی دو بالیاں ہیں“، اس عورت کے پاس سونے کے دو کنگن تھے، اس نے انہیں اتار کر پھینک دئیے اور بولی: اگر عورت اپنے شوہر کے لیے بناؤ سنگار نہ کرے تو وہ اس کے لیے پھر کس کام کی؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں چاندی کی بالیاں بنانے پھر اسے زعفران یا عبیر سے پیلا کرنے سے کون سی چیز مانع ہے“۔
