حدیث ۵۶۵۸
سنن نسائی : ۵۶۵۸
سنن نسائیحدیث نمبر ۵۶۵۸
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ مَرْوَزِيٌّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ عُبَيْدٍ الْكِنْدِيُّ خُرَاسَانِيٌّ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَا هُوَ يَسِيرُ إِذْ حَلَّ بِقَوْمٍ , فَسَمِعَ لَهُمْ لَغَطًا ، فَقَالَ : " مَا هَذَا الصَّوْتُ ؟ " , قَالُوا : يَا نَبِيَّ اللَّهِ , لَهُمْ شَرَابٌ يَشْرَبُونَهُ ، فَبَعَثَ إِلَى الْقَوْمِ فَدَعَاهُمْ ، فَقَالَ : " فِي أَيِّ شَيْءٍ تَنْتَبِذُونَ ؟ " , قَالُوا : نَنْتَبِذُ فِي النَّقِيرِ ، وَالدُّبَّاءِ ، وَلَيْسَ لَنَا ظُرُوفٌ ، فَقَالَ : " لَا تَشْرَبُوا إِلَّا فِيمَا أَوْكَيْتُمْ عَلَيْهِ " ، قَالَ : فَلَبِثَ بِذَلِكَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَلْبَثَ ثُمَّ رَجَعَ عَلَيْهِمْ فَإِذَا هُمْ قَدْ أَصَابَهُمْ وَبَاءٌ وَاصْفَرُّوا ، قَالَ : " مَا لِي أَرَاكُمْ قَدْ هَلَكْتُمْ ؟ " , قَالُوا : يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَرْضُنَا وَبِيئَةٌ ، وَحَرَّمْتَ عَلَيْنَا ، إِلَّا مَا أَوْكَيْنَا عَلَيْهِ ، قَالَ : " اشْرَبُوا وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ " .
´بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں جا رہے تھے، اسی دوران اچانک کچھ لوگوں کے پاس ٹھہرے، تو ان میں کچھ گڑبڑ آواز سنی، فرمایا: ”یہ کیسی آواز ہے؟“ لوگوں نے کہا: اللہ کے نبی! ان کا ایک قسم کا مشروب ہے جسے وہ پی رہے ہیں، آپ نے لوگوں کو بلا بھیجا اور فرمایا: ”تم لوگ کس چیز میں نبیذ تیار کرتے ہو؟“ وہ بولے: ہم لوگ لکڑی کے برتن اور کدو کی تونبی میں تیار کرتے ہیں۔ ہمارے پاس (ان کے علاوہ) دوسرے برتن نہیں ہوتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم صرف ڈاٹ لگے ہوئے برتنوں میں پیو“، پھر آپ وہاں کچھ دنوں تک ٹھہرے رہے جب تک اللہ تعالیٰ کو منظور تھا، پھر جب ان کے پاس لوٹ کر گئے تو دیکھا کہ وہ استسقاء کے مرض میں مبتلا ہو کر پیلے پڑ گئے ہیں، آپ نے فرمایا: ”کیا وجہ ہے کہ میں تمہیں تباہ و برباد دیکھ رہا ہوں“، وہ بولے: اللہ کے نبی! ہمارا علاقہ وبائی ہے آپ نے ہم پر (تمام برتن) حرام کر دیے سوائے ان برتنوں کے جن پر ہم نے ڈاٹ لگائی ہو، آپ نے فرمایا: پیو (جیسے چاہو) البتہ ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے۔
