حدیث ۹۸۲
سنن نسائی : ۹۸۲
سنن نسائیحدیث نمبر ۹۸۲
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، قال : حَدَّثَنَا الْعَطَّافُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، قال : دَخَلْنَا عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، فَقَالَ : " صَلَّيْتُمْ " قُلْنَا : " نَعَمْ " قَالَ : " يَا جَارِيَةُ هَلُمِّي لِي وَضُوءًا مَا صَلَّيْتُ وَرَاءَ إِمَامٍ أَشْبَهَ صَلَاةً بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِمَامِكُمْ هَذَا " قَالَ زَيْدٌ : وَكَانَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ يُتِمُّ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ وَيُخَفِّفُ الْقِيَامَ وَالْقُعُودَ .
´زید بن اسلم کہتے ہیں کہ` ہم انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو انہوں نے پوچھا: تم لوگوں نے نماز پڑھ لی؟ ہم نے کہا: جی ہاں! تو انہوں نے کہا: بیٹی! میرے لیے وضو کا پانی لاؤ، میں نے کسی امام کے پیچھے نماز نہیں پڑھی جس کی نماز تمہارے اس امام ۱؎ کی نماز سے بڑھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز سے مشابہت رکھتی ہو، زید کہتے ہیں: عمر بن عبدالعزیز رکوع اور سجدے مکمل کرتے اور قیام و قعود ہلکا کرتے تھے۔
