طلاق اور لعان کے احکام

کل احادیث 13

طلاق اور لعان کے احکام پر مستند احادیثِ مبارکہ

ان احادیثِ مبارکہ میں طلاق اور لعان کے احکام کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ اسلامی قانون کے مطابق، اگر کوئی شوہر اپنی بیوی پر بدچلنی کا الزام لگائے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے مسجد میں سورہ نور کی روشنی میں لعان کا طریقہ کار نافذ کیا گیا۔ احادیث بتاتی ہیں کہ لعان کے عمل کے بعد میاں بیوی کے درمیان مستقل جدائی ہو جاتی ہے، جیسا کہ عویمر عجلانی رضی اللہ عنہ کے واقعے میں انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے پہلے ہی تین طلاقیں دے دیں۔ مزید برآں، لعان کرنے والی حاملہ عورت کے بچے کی نسبت صرف اس کی ماں کی طرف کی جائے گی اور وراثت کا حقدار بھی وہی بچہ اور اس کی ماں ہوں گے۔ علمائے کرام کے مطابق، یہ احکام مسلمانوں کو خانگی معاملات میں شدید تنازعات کے حل کا ایک واضح اور پاکیزہ طریقہ فراہم کرتے ہیں تاکہ معاشرے میں عدل قائم رہے۔

وحَدَّثَنِيهِ عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، قَالَ : سُئِلْتُ عَنِ الْمُتَلَاعِنَيْنِ زَمَنَ مُصْعَبِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، فَلَمْ أَدْرِ مَا أَقُولُ ، فَأَتَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، فَقُلْتُ : أَرَأَيْتَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ أَيُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا ؟ ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ .

‏‏‏‏ اس سند سے بھی مندرجہ بالا روایت نقل کی گئی ہے۔

وحَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا يَحْيَي وَهُوَ الْقَطَّانُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ .

‏‏‏‏ ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔

وحَدَّثَنَاه إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، جَمِيعًا ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ .

‏‏‏‏ اعمش سے اس سند کے ساتھ اسی طرح منقول ہے۔

وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى ، قَالَ يَحْيَي : أَخْبَرَنَا ، وَقَالَ الْآخَرَانِ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لِلْمُتَلَاعِنَيْنِ حِسَابُكُمَا عَلَى اللَّهِ ، أَحَدُكُمَا كَاذِبٌ لَا سَبِيلَ لَكَ عَلَيْهَا " ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَالِي ؟ قَالَ : " لَا مَالَ لَكَ ، إِنْ كُنْتَ صَدَقْتَ عَلَيْهَا ، فَهُوَ بِمَا اسْتَحْلَلْتَ مِنْ فَرْجِهَا ، وَإِنْ كُنْتَ كَذَبْتَ عَلَيْهَا ، فَذَاكَ أَبْعَدُ لَكَ مِنْهَا " . قَالَ زُهَيْرٌ فِي رِوَايَتِهِ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .

عبداللہ بن عمر روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لعان کرنے والوں کو، ”دونوں کا حساب اللہ تعالیٰ پر ہے تم میں سے ایک جھوٹا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خاوند سے فرمایا: ”اب تیرا کوئی بس عورت پر نہیں کیونکہ وہ تجھ سے ہمیشہ کے لیے جدا ہو گئی۔“ مرد بولا: میرا مال یا رسول اللہ! جو اس نے لیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مال تجھ کو نہیں ملے گا کیونکہ اگر تو سچا ہے تو مال کا بدلہ ہے جو اس کی فرج تجھ پر حلال ہو گئی اور اگر تو جھوٹا ہے تو مال اور دور ہو گیا۔“ (بلکہ تیرے اوپر اور وبال ہوا جھوٹ کا)۔

وحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : فَرَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَخَوَيْ بَنِي الْعَجْلَانِ ، وَقَالَ : " اللَّهُ يَعْلَمُ أَنَّ أَحَدَكُمَا كَاذِبٌ ، فَهَلْ مِنْكُمَا تَائِبٌ ؟ " .

عبداللہ بن عمر روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جدائی کر دی بنی عجلان کی جورو، مرد میں اور فرمایا: ”اللہ تعالیٰ جانتا ہے تم میں سے کوئی جھوٹا ہے پھر کیا تم میں سے کوئی توبہ کرتا ہے؟“

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَا : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " لَاعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ وَامْرَأَتِهِ ، وَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا " .

عبداللہ بن عمر روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعان کرا دیا درمیان ایک مرد انصاری اور اس کی عورت کے اور جدائی کر دی ان دونوں میں۔

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وإسحاق بن إبراهيم ، واللفظ لزهير ، قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا ، وَقَالَ الْآخَرَانِ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : إِنَّا لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ فِي الْمَسْجِدِ ، إِذْ جَاءَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ ، فَقَالَ : لَوْ أَنَّ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا ، فَتَكَلَّمَ جَلَدْتُمُوهُ ، أَوْ قَتَلَ قَتَلْتُمُوهُ ، وَإِنْ سَكَتَ سَكَتَ عَلَى غَيْظٍ ، وَاللَّهِ لَأَسْأَلَنَّ عَنْهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ ، فَقَالَ : لَوْ أَنَّ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا ، فَتَكَلَّمَ جَلَدْتُمُوهُ ، أَوْ قَتَلَ قَتَلْتُمُوهُ ، أَوْ سَكَتَ سَكَتَ عَلَى غَيْظٍ ، فَقَالَ : " اللَّهُمَّ افْتَحْ ، وَجَعَلَ يَدْعُو " ، فَنَزَلَتْ آيَةُ اللِّعَانِ : وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ شُهَدَاءُ إِلا أَنْفُسُهُمْ سورة النور آية 6 هَذِهِ الْآيَاتُ ، فَابْتُلِيَ بِهِ ذَلِكَ الرَّجُلُ مِنْ بَيْنِ النَّاسِ ، فَجَاءَ هُوَ وَامْرَأَتُهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَتَلَاعَنَا ، فَشَهِدَ الرَّجُلُ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ إِنَّهُ لَمِنَ الصَّادِقِينَ ، ثُمَّ لَعَنَ الْخَامِسَةَ أَنَّ لَعْنَةَ اللَّهِ عَلَيْهِ إِنْ كَانَ مِنَ الْكَاذِبِينَ ، فَذَهَبَتْ لِتَلْعَنَ ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَهْ ، فَأَبَتْ ، فَلَعَنَتْ ، فَلَمَّا أَدْبَرَا ، قَالَ : " لَعَلَّهَا أَنْ تَجِيءَ بِهِ أَسْوَدَ جَعْدًا " ، فَجَاءَتْ بِهِ أَسْوَدَ جَعْدًا .

عبداللہ بن مسعود روایت:

میں جمعہ کی رات کو مسجد میں تھا، اتنے میں ایک مرد انصاری آیا اور بولا: اگر کوئی اپنی جورو کے پاس کسی مرد کو پائے اور منہ سے نکالے تو تم اس کو کوڑے لگاؤ گے حد قذف کے، اگر مار ڈالے تو تم اس کو مار ڈالو گے (قصاص میں) اگر چپ رہے تو اپنا غصہ پی کر چپ رہے۔ قسم اللہ کی! میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھوں گا اس مسئلے کو جب دوسرا دن ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا۔اس نے کہا کہ اگر کوئی شخص اپنی بی بی کے ساتھ کسی کو پائے پھر منہ سے نکالے تو تم کوڑے لگاؤ گے، اگر مار ڈالے تو تم اس کو بھی مار ڈالو گے اگر چپ رہے تو اپنا غصہ کھا کر چپ رہے (یہ بھی نہیں ہو سکتا)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یااللہ کھول دے اس مشکل کو۔“اور دعا کرنے لگے تب لعان کی آیت اتری «وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ وَلَمْ يَكُن لَّهُمْ شُهَدَاءُ إِلَّا أَنفُسُهُمْ» (۲۴-النور:۴-۹) اخیر تک۔پھر اس مرد کا امتحان لیا گیا لوگوں کے سامنے اور وہ اور اس کی جورو دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور لعان کیا پہلے مرد نے گواہی دی چار بار کہ وہ سچا ہے پھر پانچویں بار لعنت کر کے کہا: اگر وہ جھوٹا ہو تو اس پر لعنت ہے اللہ تعالیٰ کی۔ پھر عورت چلی لعان کرنے کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ٹھہر اور اگر خاوند کی بات سچ ہے تو اپنے قصور کا اقرار کر۔“ لیکن اس نے نہ مانا اور لعان کیا جب پیٹھ موڑ کر چلے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس عورت کا بچہ شاید کالے رنگ کا گھونگریالے بالوں والا پیدا ہو گا اس شخص کی صورت پر جس کا خاوند کو گمان تھا۔“ پھر ویسا ہی کالا گھونگریالے بالوں والا پیدا ہوا۔

وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ الْأَنْصَارِيُّ ، أَنَّ عُوَيْمِرًا الْأَنْصَارِيَّ مِنْ بَنِي الْعَجْلَانِ ، أَتَى عَاصِمَ بْنَ عَدِيٍّ ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ مَالِكٍ ، وَأَدْرَجَ فِي الْحَدِيثِ قَوْلَهُ وَكَانَ فِرَاقُهُ إِيَّاهَا بَعْدُ سُنَّةً فِي الْمُتَلَاعِنَيْنِ وَزَادَ فِيهِ ، قَالَ سَهْلٌ : فَكَانَتْ حَامِلًا فَكَانَ ابْنُهَا يُدْعَى إِلَى أُمِّهِ ، ثُمَّ جَرَتِ السُّنَّةُ أَنَّهُ يَرِثُهَا وَتَرِثُ مِنْهُ مَا فَرَضَ اللَّهُ لَهَا .

سہل بن سعد روایت:

سیدنا عویمر انصاری رضی اللہ عنہ، جو بنی عجلان میں سے تھا، سیدنا عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا پھر بیان کیا حدیث کو اخیر تک اسی طرح جیسے اوپر گزری اور حدیث میں ابن شہاب کا قول بھی شریک کر دیا کہ پھر جدائی مرد کی عورت سے سنت ہو گئی لعان کرنے والوں میں اور اتنا زیادہ کیا کہ سیدنا سہیل رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ عورت حاملہ تھی اس کے بیٹے کو ماں کی طرف نسبت کر کے پکارتے پھر یہ طریقہ جاری ہوا کہ ایسا لڑکا اپنی ماں کا وارث ہو گا اور وہ اس کی وارث ہو گی اپنے حصہ کے موافق۔“

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ : سُئِلْتُ عَنِ الْمُتَلَاعِنَيْنِ فِي إِمْرَةِ مُصْعَبٍ ، أَيُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا ؟ قَالَ : فَمَا دَرَيْتُ مَا أَقُولُ ، فَمَضَيْتُ إِلَى مَنْزِلِ ابْنِ عُمَرَ بِمَكَّةَ ، فَقُلْتُ لِلْغُلَامِ : اسْتَأْذِنْ لِي ، قَالَ : إِنَّهُ قَائِلٌ فَسَمِعَ صَوْتِي ، قَالَ ابْنُ جُبَيْرٍ : قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : ادْخُلْ فَوَاللَّهِ مَا جَاءَ بِكَ هَذِهِ السَّاعَةَ إِلَّا حَاجَةٌ ، فَدَخَلْتُ ، فَإِذَا هُوَ مُفْتَرِشٌ بَرْذَعَةً مُتَوَسِّدٌ وِسَادَةً حَشْوُهَا لِيفٌ ، قُلْتُ : أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُتَلَاعِنَانِ أَيُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا ؟ قَالَ : سُبْحَانَ اللَّهِ ، نَعَمْ ، إِنَّ أَوَّلَ مَنْ سَأَلَ عَنْ ذَلِكَ فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ أَنْ لَوْ وَجَدَ أَحَدُنَا امْرَأَتَهُ عَلَى فَاحِشَةٍ ، كَيْفَ يَصْنَعُ إِنْ تَكَلَّمَ تَكَلَّمَ بِأَمْرٍ عَظِيمٍ ، وَإِنْ سَكَتَ سَكَتَ عَلَى مِثْلِ ذَلِكَ ؟ قَالَ : فَسَكَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمْ يُجِبْهُ ، فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ أَتَاهُ ، فَقَالَ : إِنَّ الَّذِي سَأَلْتُكَ عَنْهُ قَدِ ابْتُلِيتُ بِهِ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ هَؤُلَاءِ الْآيَاتِ فِي سُورَةِ النُّورِ : وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ سورة النور آية 6 ، " فَتَلَاهُنَّ عَلَيْهِ وَوَعَظَهُ وَذَكَّرَهُ وَأَخْبَرَهُ : " أَنَّ عَذَابَ الدُّنْيَا أَهْوَنُ مِنْ عَذَابِ الْآخِرَةِ " ، قَالَ : لَا وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا كَذَبْتُ عَلَيْهَا ، ثُمَّ دَعَاهَا فَوَعَظَهَا وَذَكَّرَهَا ، وَأَخْبَرَهَا : " أَنَّ عَذَابَ الدُّنْيَا أَهْوَنُ مِنْ عَذَابِ الْآخِرَةِ " ، قَالَتْ : لَا وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ إِنَّهُ لَكَاذِبٌ ، فَبَدَأَ بِالرَّجُلِ ، فَشَهِدَ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ إِنَّهُ لَمِنَ الصَّادِقِينَ وَالْخَامِسَةُ أَنَّ لَعْنَةَ اللَّهِ عَلَيْهِ إِنْ كَانَ مِنَ الْكَاذِبِينَ ، ثُمَّ ثَنَّى بِالْمَرْأَةِ ، فَشَهِدَتْ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ ، إِنَّهُ لَمِنَ الْكَاذِبِينَ وَالْخَامِسَةُ أَنَّ غَضَبَ اللَّهِ عَلَيْهَا إِنْ كَانَ مِنَ الصَّادِقِينَ ، ثُمَّ فَرَّقَ بَيْنَهُمَا " .

سعید بن جبیر روایت:

مجھ سے پوچھا گیا لعان کرنے والوں کا مسئلہ مصعب بن زیبر کی خلافت میں۔ میں حیران ہوا کیا جواب دوں تو میں چلا سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے مکان کی طرف مکہ میں اور ان کے غلام سے کہا: میری عرض کرو۔ اس نے کہا: وہ آرام کرتے ہیں۔ انہوں نے میری آواز سنی اور کہا: کیا مبیر کا بیٹا ہے؟ میں نے کہا: ہاں انہوں نے کہا: اندر آ قسم اللہ کی تو کسی کام سے آیا ہو گا، میں اندر گیا تو وہ ایک کمبل بچھائے بیٹھے تھے اور ایک تکیے پر ٹیکا لگائے تھے جو چھال سے کھجور کی بھرا ہوا تھا، میں کہا: اے ابوعبدالرحمٰن! لعان کرنے والوں میں جدائی کی جائے گی؟انہوں نے کہا: سبحان اللہ! بے شک جدائی کی جائے گی اور سب سے پہلے اس باب میں فلاں نے پوچھا جو فلاں کا بیٹا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ اس نے کہا: یا رسول اللہ! آپ کیا سمجھتے ہیں اگر ہم سے کوئی اپنی عورت کو برا کام کراتے دیکھے تو کیا کرے اگر منہ سے نکالے تو بری بات نکالے گا اگر چپ رہے تو ایسی بری بات سے کیونکر چپ رہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر چپ ہو رہے اور جواب نہیں دیا۔پھر وہ شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ! جو بات میں نے آپ سے پوچھتی تھی میں خود اس میں پڑ گیا تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں اتاریں سورہ نور میں «‏‏‏‏وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ» (۲۴: النور: ۶-۹) آخر تک۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیتیں مرد کو پڑھ کر سنائیں اور اس کو نصیحت کی اور سمجھایا کہ دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب سے آسان ہے یعنی اگر جھوٹ طوفان باندھتا ہے تو اب بھی بول دے حد قذف کے اسی کوڑے پڑ جائیں گے مگر یہ جہنم میں جلنے سے آسان ہے، وہ بولا: نہیں قسم اس کی جس نے آپ کو سچائی کے ساتھ بھیجا میں نے عورت پر طوفان نہیں جوڑا۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کو بلا لیا اور اس کو ڈرایا اور سمجھایا اور فرما دیا دنیا کا عذاب سہل ہے آخرت کے عذاب سے، وہ بولی: نہیں۔ قسم اس کی جس نے آپ کو سچائی کے ساتھ بھیجا ہے میرا خاوند جھوٹ بولتا ہے تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شروع کیا مرد سے اور اس نے چار گواہیاں دیں اللہ تعالیٰ کے نام کی مقرر وہ سچا ہے اور پانچویں بار میں یہ کہا کہ اللہ کی پھٹکار ہو اس پر اگر وہ جھوٹا ہو پھر عورت کو بلایا اس نے چار گواہیاں دیں اللہ تعالیٰ کے نام کی؟ مرد جھوٹا ہے اور پانچویں بار میں یہ کہا: اللہ کا غضب اترے اس پر اگر وہ سچا ہو اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جدائی کر دی ان دونوں میں۔

وحَدَّثَنَاه ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ : عَنِ اللِّعَانِ ، فَذَكَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ .

سعید بن جبیر روایت:

میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے لعان کو پوچھا تو انہوں نے نقل کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسا ہی جیسے اوپر گزرا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں