قرض اور وراثت

کل احادیث 14

قرض اور وراثت کے متعلق احادیثِ نبوی کی روشنی میں اہم احکام

اسلامی معاشرے میں قرض کی ادائیگی اور وراثت کی تقسیم کو بنیادی اہمیت حاصل ہے، جیسا کہ ان مستند احادیث پاک سے معلوم ہوتا ہے۔ ابتدائی دور میں جب کوئی مسلمان مقروض فوت ہو جاتا، تو رسول اللہ ﷺ صحابہ سے دریافت فرماتے کہ کیا اس نے قرض کی ادائیگی کے لیے کچھ مال چھوڑا ہے؟ اگر چھوڑا ہوتا تو آپ ﷺ خود نمازِ جنازہ پڑھاتے، ورنہ صحابہ سے فرما دیتے کہ اپنے ساتھی کا جنازہ پڑھ لو۔ لیکن جب اللہ تعالیٰ نے فتوحات کے ذریعے مالی کشادگی عطا فرمائی، تو آپ ﷺ نے مومنین کے لیے اپنی بے پناہ محبت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اعلان فرمایا کہ میں تمام مسلمانوں کا ان کی جانوں سے بھی زیادہ ولی ہوں۔ چنانچہ جو شخص بھی قرض چھوڑ کر مر جائے اور ادائیگی کا انتظام نہ ہو، تو اس کے قرض کی ادائیگی کی ذمہ داری آپ ﷺ نے خود سنبھالی۔ اس کے برعکس، اگر کوئی شخص مال چھوڑ کر فوت ہو، تو وہ سارا ترکہ اس کے شرعی وارثوں کا حق ہے۔ اسلامی اسکالرز کے مطابق یہ احادیث ظاہر کرتی ہیں کہ اسلام کس طرح بے سہارا لوگوں کی کفالت کرتا ہے اور وراثت کے حقوق کا تحفظ یقینی بناتا ہے۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ . ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ كُلُّهُمْ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ هَذَا الْحَدِيثَ .

‏‏‏‏ اس سند سے بھی مذکورہ بالا حدیث مروی ہے۔

وحَدَّثَنِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ . ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ غُنْدَرٍ وَمَنْ تَرَكَ كَلًّا وَلِيتُهُ .

‏‏‏‏ مذکورہ بالا حدیث اس سند سے بھی مروی ہے۔

حَدَّثَنَا عَبْدَانُ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَنَا أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ ، فَمَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ ، وَلَمْ يَتْرُكْ وَفَاءً ، فَعَلَيْنَا قَضَاؤُهُ ، وَمَنْ تَرَكَ مَالًا ، فَلِوَرَثَتِهِ " .

ابوہریرہ روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں مومنوں کا خود ان سے زیادہ حقدار ہوں۔ پس ان میں سے جو کوئی قرض دار مرے گا اور ادائیگی کے لیے کچھ نہ چھوڑے گا تو ہم پر اس کی ادائیگی کی ذمہ داری ہے اور جس نے کوئی مال چھوڑا ہو گا وہ اس کے وارثوں کا حصہ ہے۔“

حَدَّثَنَا مَحْمُودٌ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَا أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ ، فَمَنْ مَاتَ وَتَرَكَ مَالًا ، فَمَالُهُ لِمَوَالِي الْعَصَبَةِ ، وَمَنْ تَرَكَ كَلًّا أَوْ ضَيَاعًا ، فَأَنَا وَلِيُّهُ فَلِأُدْعَى لَهُ " . الْكَلُّ : الْعِيَالُ .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں مسلمانوں کا خود ان کی ذات سے بھی زیادہ ولی ہوں۔ پس جو شخص مر جائے اور مال چھوڑ جائے تو وہ اس کے وارثوں کا حق ہے اور جس نے بیوی بچے چھوڑے ہوں یا قرض ہو، تو میں ان کا ولی ہوں، ان کے لیے مجھ سے مانگا جائے۔“

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَدِيٍّ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِوَرَثَتِهِ ، وَمَنْ تَرَكَ كَلًّا فَإِلَيْنَا " .

ابوہریرہ روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس نے مال چھوڑا (اپنی موت کے بعد) وہ اس کے وارثوں کا ہے اور جس نے قرض چھوڑا ہے وہ ہمارے ذمہ ہے۔“

وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو صَفْوَانَ الْأُمَوِيُّ ، عَنْ يُونُسَ الْأَيْلِيِّ . ح وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى وَاللَّفْظُ لَهُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ يُؤْتَى بِالرَّجُلِ الْمَيِّتِ عَلَيْهِ الدَّيْنُ ، فَيَسْأَلُ : هَلْ تَرَكَ لِدَيْنِهِ مِنْ قَضَاءٍ ؟ فَإِنْ حُدِّثَ أَنَّهُ تَرَكَ وَفَاءً صَلَّى عَلَيْهِ وَإِلَّا ، قَالَ : صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ ، فَلَمَّا فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْفُتُوحَ ، قَالَ : أَنَا أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ ، فَمَنْ تُوُفِّيَ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ ، فَعَلَيَّ قَضَاؤُهُ وَمَنْ تَرَكَ مَالًا ، فَهُوَ لِوَرَثَتِهِ " ،

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جنازہ آتا تھا۔ اور وہ قرض دار ہوتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پوچھتے: ”کیا اس نے اتنا مال چھوڑا ہے، جو اس کے قرضہ کو کافی ہو؟“ اگر لوگ کہتے: ہاں چھوڑا ہے تو نماز پڑھتے اور نہیں تو لوگوں سے فرما دیتے: ”تم اپنے ساتھی پر نماز پڑھ لو۔“پھر جب اللہ تعالیٰ نے کھول دیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر مال کو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں زیادہ عزیز ہوں مؤمنوں کا خود ان کی جانوں سے (یہ انتہائی محبت ہے کہ خود ان سے زیادہ ان کے دوست ہوئے) اب جو کوئی قرضدار مرے تو اس کا قرض کا ادا کرنا میرے ذمہ ہے اور جو کوئی مال چھوڑ کر مرے تو وہ اس کے وارثوں کا ہے۔“

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي وَرْقَاءُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، إِنْ عَلَى الْأَرْضِ مِنْ مُؤْمِنٍ إِلَّا أَنَا أَوْلَى النَّاسِ بِهِ ، فَأَيُّكُمْ مَا تَرَكَ دَيْنًا أَوْ ضَيَاعًا ، فَأَنَا مَوْلَاهُ وَأَيُّكُمْ تَرَكَ مَالًا ، فَإِلَى الْعَصَبَةِ مَنْ كَانَ " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم اس کی جس کے ہاتھ میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) کی جان ہے زمین پر کوئی ایسا مؤمن نہیں جس کے ساتھ سب سے زیادہ میں قریب نہ ہوں تو جو کوئی تم میں سے قرضہ یا بال بچے چھوڑ جائے میں اس کا مددگار ہوں (یعنی اس کا قرض ادا کرنا اس کے بال بچوں کی پرورش میرے ذمہ ہے) اور جو کوئی تم میں سے مال چھوڑ جائے تو وہ اس کے وارث کا ہے جو کوئی ہو۔“

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَدِيٍّ : أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " مَنْ تَرَكَ مَالًا ، فَلِلْوَرَثَةِ وَمَنْ تَرَكَ كَلًّا ، فَإِلَيْنَا " ،

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کوئی مال چھوڑ جائے وہ اس کے وارثوں کا ہے اور جو کوئی بوجھ چھوڑ جائے (قرض یا بال بچے) وہ ہماری طرف ہے۔“

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِأَهْلِهِ ، وَمَنْ تَرَكَ ضَيَاعًا فَإِلَيَّ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَفِي الْبَابِ عَنْ جَابِرٍ وَأَنَسٍ ، وَقَدْ رَوَاهُ الزُّهْرِيُّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَطْوَلَ مِنْ هَذَا وَأَتَمَّ مَعْنَى ضَيَاعًا ضَائِعًا لَيْسَ لَهُ شَيْءٌ ، فَأَنَا أَعُولُهُ وَأُنْفِقُ عَلَيْهِ .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے (مرنے کے بعد) کوئی مال چھوڑا تو وہ اس کے وارثوں کا ہے، اور جس نے ایسی اولاد چھوڑی جس کے پاس کچھ بھی نہیں ہے تو اس کی کفالت میرے ذمہ ہے“۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ : هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَا أَوْلَى النَّاسِ بِالْمُؤْمِنِينَ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، فَأَيُّكُمْ مَا تَرَكَ دَيْنًا أَوْ ضَيْعَةً ، فَادْعُونِي فَأَنَا وَلِيُّهُ وَأَيُّكُمْ مَا تَرَكَ مَالًا ، فَلْيُؤْثَرْ بِمَالِهِ عَصَبَتُهُ مَنْ كَانَ " .

ہمام بن منبہ روایت:

وہ یہ ہے جو حدیث بیان کی ہم سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اور بیان کیں کئی حدیثیں ان میں ایک یہ بھی تھی کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”میں نزدیک زیادہ ہوں ان مؤمنوں کا خود ان کی جانوں سے اللہ تعالیٰ کی کتاب کے بموجب اس آیت «النَّبِيُّ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ» (۳۳-الأحزاب:۶) پھر جو تم میں سے قرض یا بال بچے چھوڑ جائے مجھ کو بلاؤ میں ان کا ذمہ دار ہوں اور جو کوئی تم میں سے مال چھوڑ جائے تو وہ اس کا عصبہ لے لے جو کوئی ہو۔“

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں