اسلامی قیادت
کل احادیث 143
اسلامی قیادت اور خلافت میں قریش کے کردار کی شرعی حیثیت
ان مستند احادیث مبارکہ میں اسلامی قیادت، خلافت اور امارت کے نظام کے حوالے سے قریش کے کلیدی اور تاریخی کردار کو بیان کیا گیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح الفاظ میں ارشاد فرمایا کہ خلافت و امارت کے معاملے میں تمام لوگ قریش کے تابع ہیں؛ ان کے مسلمان قریش کے مسلمانوں کے تابع ہیں اور کافر قریش کے کافروں کے تابع ہیں۔ احادیث نبوی کے مطابق، لوگ خیر اور شر دونوں حالتوں میں قریش کے ہی پیروکار ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ پیشگوئی بھی فرمائی کہ یہ خلافت ہمیشہ قریش کے پاس ہی رہے گی، یہاں تک کہ دنیا میں صرف دو انسان باقی رہ جائیں۔ مزید برآں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ یہ نظامِ خلافت اس وقت تک ختم نہیں ہوگا جب تک مسلمانوں میں بارہ خلیفہ نہ گزر جائیں اور یہ تمام کے تمام خلفاء قریش ہی کے قبیلے سے تعلق رکھیں گے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَكِّيُّ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : كُنْتُ مَعَ مَرْوَانَ وَأَبِي هُرَيْرَةَ ، فَسَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ الصَّادِقَ الْمَصْدُوقُ ، يَقُولُ : " هَلَاكُ أُمَّتِي عَلَى يَدَيْ غِلْمَةٍ مِنْ قُرَيْشٍ ، فَقَالَ مَرْوَانُ : غِلْمَةٌ ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : إِنْ شِئْتَ أَنْ أُسَمِّيَهُمْ بَنِي فُلَانٍ وَبَنِي فُلَانٍ " .
´مجھ سے احمد محمد مکی نے بیان کیا، کہا ہم سے عمرو بن یحییٰ بن سعید اموی نے بیان کیا، ان سے ان کے دادا نے بیان کیا کہ` میں مروان بن حکم اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا۔ اس وقت میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا کہ میں نے سچوں کے سچے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ میری امت کی بربادی قریش کے چند لڑکوں کے ہاتھوں پر ہو گی۔ مروان نے پوچھا: نوجوان لڑکوں کے ہاتھ پر؟ اس پر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر تم چاہو تو میں ان کے نام بھی لے دوں کہ وہ بنی فلاں اور بنی فلاں ہوں گے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَزَالُ هَذَا الْأَمْرُ عَزِيزًا إِلَى اثْنَيْ عَشَرَ خَلِيفَةً ، قَالَ : ثُمَّ تَكَلَّمَ بِشَيْءٍ لَمْ أَفْهَمْهُ ، فَقُلْتُ لِأَبِي : مَا قَالَ ؟ ، فَقَالَ : كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ " .
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ مُهَاجِرِ بْنِ مِسْمَارٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، أَنَّهُ أَرْسَلَ إِلَى ابْنِ سَمُرَةَ الْعَدَوِيِّ حَدِّثْنَا مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ، فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ حَاتِمٍ .
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔
وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ يُونُسَ . ح وحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ , حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ يُونُسَ ، وَمَنْصُورٍ ، وَحُمَيْدٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ عَطِيَّةَ ، وَيُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ ، وَهِشَامِ بْنِ حَسَّانَ كلهم ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ جَرِيرٍ .
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، حَدَّثَنِي أَبِي شُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ يَزِيدَ الْحَضْرَمِيِّ ، عَنْ ابْنِ حُجَيْرَةَ الْأَكْبَرِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : " قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَا تَسْتَعْمِلُنِي ، قَالَ : فَضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى مَنْكِبِي ثُمَّ ، قَالَ يَا أَبَا ذَرٍّ : إِنَّكَ ضَعِيفٌ ، وَإِنَّهَا أَمَانَةُ وَإِنَّهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ خِزْيٌ وَنَدَامَةٌ ، إِلَّا مَنْ أَخَذَهَا بِحَقِّهَا وَأَدَّى الَّذِي عَلَيْهِ فِيهَا " .
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ میں نے عرض کیا، یا رسول اللہ! آپ مجھے خدمت نہیں دیتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ مبارک میرے مونڈھے پر مارا اور فرمایا: ”اے ابوذر! تو ناتواں ہے اور یہ امانت ہے (یعنی بندوں کے حقوق اور اللہ تعالیٰ کے حقوق سب حاکم کو ادا کرنے ہوتے ہیں) اور قیامت کے دن خدمت سے سوائے رسوائی اور شرمندگی کے کچھ حاصل نہیں مگر جو اس کے حق ادا کرے اور راستی سے کام لے۔“
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرٍو يَعْنِي ابْنَ دِينَارٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو بَكْرٍ : يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَفِي حَدِيثِ زُهَيْرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الْمُقْسِطِينَ عِنْدَ اللَّهِ عَلَى مَنَابِرَ مِنْ نُورٍ عَنْ يَمِينِ الرَّحْمَنِ عَزَّ وَجَلَّ ، وَكِلْتَا يَدَيْهِ يَمِينٌ الَّذِينَ يَعْدِلُونَ فِي حُكْمِهِمْ وَأَهْلِيهِمْ وَمَا وَلُوا " .
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”جو لوگ انصاف کرتے ہیں وہ اللہ عزوجل کے پاس منبروں پر ہوں گے پروردگار کے داہنی طرف اور اس کے دونوں ہاتھ داہنے ہیں (یعنی بائیں ہاتھ میں جو داہنے سے قوت کم ہوتی ہے یہ بات اللہ تعالیٰ میں نہیں کیونکہ وہ ہر عیب سے پاک ہے) اور یہ انصاف کرنے والے وہ لوگ ہیں جو حکم کرتے وقت انصاف کرتے ہیں اور اپنے بال بچوں اور عزیزوں میں انصاف کرتے ہیں اور جو کام ان کو دیا جائے اس میں انصاف کرتے ہیں۔“
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ ، قَالَ : أَتَيْتُ عَائِشَةَ أَسْأَلُهَا عَنْ شَيْءٍ ، فَقَالَتْ : " مِمَّنْ أَنْتَ ؟ ، فَقُلْتُ : رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ مِصْرَ ، فَقَالَتْ : كَيْفَ كَانَ صَاحِبُكُمْ لَكُمْ فِي غَزَاتِكُمْ هَذِهِ ؟ ، فَقَالَ : مَا نَقَمْنَا مِنْهُ شَيْئًا إِنْ كَانَ لَيَمُوتُ لِلرَّجُلِ مِنَّا الْبَعِيرُ ، فَيُعْطِيهِ الْبَعِيرَ ، وَالْعَبْدُ فَيُعْطِيهِ الْعَبْدَ ، وَيَحْتَاجُ إِلَى النَّفَقَةِ فَيُعْطِيهِ النَّفَقَةَ ، فَقَالَتْ : أَمَا إِنَّهُ لَا يَمْنَعُنِي الَّذِي فَعَلَ فِي مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ أَخِي أَنْ أُخْبِرَكَ مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : فِي بَيْتِي هَذَا اللَّهُمَّ مَنْ وَلِيَ مِنْ أَمْرِ أُمَّتِي شَيْئًا ، فَشَقَّ عَلَيْهِمْ فَاشْقُقْ عَلَيْهِ ، وَمَنْ وَلِيَ مِنْ أَمْرِ أُمَّتِي شَيْئًا فَرَفَقَ بِهِمْ فَارْفُقْ بِهِ " ،
عبدالرحمٰن بن شماسہ سے روایت ہے، میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا کچھ پوچھنے کو۔ انہوں نے پوچھا کہ تو کون سے لوگوں میں سے ہے؟ میں نے کہا: مصر والوں میں سے، انہوں نے کہا: تمہارے حاکم کا کیا حال تھا اس لڑائی میں؟ (یعنی محمد بن ابی بکر کا جن کو سیدنا علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے حاکم کیا تھا مصر کا قیس بن سعد کو معزول کر کے) میں نے کہا: ان کی تو کوئی بات ہم نے بری نہیں دیکھی ہم میں سے کسی کا اونٹ مر جاتا تو اس کو اونٹ دیتے اور غلام مر جاتا تو غلام دیتے اور خرچ کی احتیاج ہوتی تو خرچ دیتے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: محمد بن ابی بکر میرے بھائی کو جو حال ہوا (کہ مارا گیا اور لاش مرداروں میں پھینکی گئی پھر جلائی گئی) یہ مجھے اس امر کے بیان کرنے سے نہیں روکتا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری اس کوٹھڑی میں:”یااللہ! جو کوئی میری امت کا حاکم ہو پھر وہ ان پر سختی کرے تو تو بھی ان پر سختی کر اور جو کوئی میری امت کا حاکم ہو اور وہ ان پر نرمی کرے تو بھی اس پر نرمی کر۔“
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ حَرْمَلَةَ الْمِصْرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ .
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ . ح . وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي يَعْنِي الْقَطَّانَ كُلُّهُمْ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ . ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُجَمِيعًا ، عَنْ أَيُّوبَ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، أَخْبَرَنَا الضَّحَّاكُ يَعْنِي ابْنَ عُثْمَانَ . ح وحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي أُسَامَةُ كُلُّ هَؤُلَاءِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ مِثْلَ حَدِيثِ اللَّيْثِ ، عَنْ نَافِعٍ ،
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔
وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَابْنُ حُجْرٍ كُلُّهُمْ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ح وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ بِمَعْنَى حَدِيثِ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، وَزَادَ فِي حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : وَحَسِبْتُ أَنَّهُ قَدْ قَالَ الرَّجُلُ رَاعٍ فِي مَالِ أَبِيهِ وَمَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ ،
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا اور اس میں یہ ہے کہ آدمی اپنے باپ کے مال کا محافظ ہے اور سوال ہوگا اس کا۔
