گناہوں کا کفارہ
کل احادیث 7
گناہوں کا کفارہ اور نیکیوں کی فضیلت پر مبنی احادیث
اسلام میں اللہ تعالیٰ کی رحمت بہت وسیع ہے اور یہ احادیث ہمیں سکھاتی ہیں کہ نیک اعمال کس طرح گناہوں کا کفارہ بن جاتے ہیں۔ احادیثِ مبارکہ کے مطابق، جب ایک شخص سے جماع (زنا) کے علاوہ کوئی اور غلطی یا گناہ سرزد ہو گیا اور اس نے آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا کفارہ پوچھا، تو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کی یہ آیت نازل فرمائی کہ دن کے دونوں حصوں اور رات کی گھڑیوں میں نماز قائم کرو، کیونکہ نیکیاں برائیوں کو دور کر دیتی ہیں۔ پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح فرمایا کہ یہ فضیلت اور گناہوں کی معافی کا یہ آسان طریقہ صرف کسی ایک شخص کے لیے خاص نہیں ہے، بلکہ پوری امت کے ہر اس انسان کے لیے ہے جو خلوصِ دل سے نیکی کا راستہ اختیار کرتا ہے۔ نماز اور اچھے اعمال انسان کے چھوٹے گناہوں کو مٹا دیتے ہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، عَنْ أَبِيهِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ أَنَّهُ أَصَابَ مِنَ امْرَأَةٍ إِمَّا قُبْلَةً أَوْ مَسًّا بِيَدٍ أَوْ شَيْئًا كَأَنَّهُ يَسْأَلُ عَنْ كَفَّارَتِهَا ، قَالَ : فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ يَزِيدَ ،
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔ اس میں یہ ہے کہ اس شخص نے اس عورت کا بوسہ لیا تھا یا ہاتھ سے مساس کیا تھا یا کچھ اور کیا تھا اور اس نے اس کا کفارہ پوچھا، تب یہ آیت اتری۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، قَالَ : أَصَابَ رَجُلٌ مِنَ امْرَأَةٍ شَيْئًا دُونَ الْفَاحِشَةِ ، فَأَتَى عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، فَعَظَّمَ عَلَيْهِ ثُمَّ أَتَى أَبَا بَكْرٍ ، فَعَظَّمَ عَلَيْهِ ثُمَّ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ يَزِيدَ وَالْمُعْتَمِرِ .
سلیمان تیمی سے روایت ہے وہی جو اوپر مذکور ہوئی اس میں یہ ہے کہ ایک شخص ایک عورت سے مرتکب ہوا سب باتوں کا سوائے زنا کے، وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، ان کو یہ کام بڑا معلوم ہوا، پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، ان کو بھی بڑا معلوم ہوا، تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا پھر بیان کیا ویسا ہی جیسے اوپر گزرا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ الْحَكَمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعِجْلِيُّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ يُحَدِّثُ عَنْ خَالِهِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَى حَدِيثِ أَبِي الْأَحْوَصِ ، وَقَالَ فِي حَدِيثِهِ ، فَقَالَ مُعَاذٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا لِهَذَا خَاصَّةً أَوْ لَنَا عَامَّةً ، قَالَ : بَلْ لَكُمْ عَامَّةً .
سیدنا عبداللہ نبی سے اسی طرح روایت کرتے ہیں۔ اس میں ہے کہ معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ حکم خاص اسی کے لیے ہے یا ہمارے سب کے واسطے ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں سب کے لیے ہے۔“
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْهُ عَلَيَّ ، قَالَ : وَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ ، فَصَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أَصَبْتُ حَدًّا ، فَأَقِمْ فِيَّ كِتَابَ اللَّهِ ، قَالَ : هَلْ حَضَرْتَ الصَّلَاةَ مَعَنَا ؟ ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : " قَدْ غُفِرَ لَكَ " .
انس روایت:
ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے حد کا کام کیا تو مجھ پر حد قائم کیجئیے اور نماز کا وقت آ گیا تھا، پھر اس نے نماز پڑھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ، جب نماز پڑھ چکا تو عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے حد کا کام کیا اللہ تعالیٰ کی کتاب کے موافق مجھے حد لگائیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو نماز میں ہمارے ساتھ تھا“ وہ بولا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے بخش دیا تجھ کو۔“
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ كلاهما ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ وَاللَّفْظُ لِأَبِي كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، حَدَّثَنَا التَّيْمِيُّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، " أَنَّ رَجُلًا أَصَابَ مِنَ امْرَأَةٍ قُبْلَةً ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ ، قَالَ : " فَنَزَلَتْ وَأَقِمِ الصَّلاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ذَلِكَ ذِكْرَى لِلذَّاكِرِينَ سورة هود آية 114 " ، قَالَ : فَقَالَ الرَّجُلُ : أَلِيَ هَذِهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ ، قَالَ : " لِمَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ أُمَّتِي " ،
عبداللہ بن مسعود روایت:
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت سے، ایک شخص نے ایک عورت کا بوسہ لے لیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا تب یہ آیت اتری «(أَقِمِ الصَّلاَةَ طَرَفَىِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ذَلِكَ ذِكْرَى لِلذَّاكِرِينَ) قَالَ فَقَالَ الرَّجُلُ أَلِىَ هَذِهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ «لِمَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ أُمَّتِى» یعنی ”قائم کر نماز کو دن کے دونوں طرف اور رات کی ساعت میں۔ بے شک نیکیاں دور کر دیتی ہیں برائیوں کو، یہ نصیحت ہے قبول کرنے والوں کے لیے ہے۔“ایک شخص بولا: یا رسول اللہ! یہ اسی شخص کے لیے خاص ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں جو کوئی عمل کرے میری امت میں سے۔“ (تو نیکیوں سے مراد اس آیت میں نماز ہے اور مجاہد نے کہا: وہ یہ کلمہ ہے «سبحان الله والحمدلله ولا اله الا الله والله اكبر»
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى ، قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا ، وقَالَ الْآخَرَانِ : حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ وَالْأَسْوَدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي عَالَجْتُ امْرَأَةً فِي أَقْصَى الْمَدِينَةِ ، وَإِنِّي أَصَبْتُ مِنْهَا مَا دُونَ أَنْ أَمَسَّهَا ، فَأَنَا هَذَا فَاقْضِ فِيَّ مَا شِئْتَ ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ : لَقَدْ سَتَرَكَ اللَّهُ لَوْ سَتَرْتَ نَفْسَكَ ، قَالَ : فَلَمْ يَرُدَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا ، فَقَامَ الرَّجُلُ ، فَانْطَلَقَ فَأَتْبَعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا دَعَاهُ ، وَتَلَا عَلَيْهِ هَذِهِ الْآيَةَ وَأَقِمِ الصَّلاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ذَلِكَ ذِكْرَى لِلذَّاكِرِينَ سورة هود آية 114 ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، هَذَا لَهُ خَاصَّةً ؟ ، قَالَ : بَلْ لِلنَّاسِ كَافَّةً " ،
عبداللہ بن مسعود روایت:
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے ایک عورت سے مزہ اٹھایا مدینہ کے کنارے اور میں نے سب باتیں کیں سوائے جماع کے۔ اب میں حاضر ہوں جو چاہیے میرے باب میں حکم دیجئے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ تعالیٰ نے تیرا گناہ ڈھانپا تو بھی اگر ڈھانپتا تو بہتر ہوتا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ جواب نہ دیا، تب وہ شخص کھڑا ہوا اور چلا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے پیچھے ایک شخص کو بھیجا اور بلایا اور یہ آیت پڑھی «(أَقِمِ الصَّلاَةَ طَرَفَىِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ذَلِكَ ذِكْرَى لِلذَّاكِرِينَ» ایک شخص بولا: یا رسول اللہ! کیا یہ حکم خاص اس کے لیے ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں سب لوگوں کے لیے ہے۔“
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا شَدَّادٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُمَامَةَ ، قَالَ : بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ ، وَنَحْنُ قُعُودٌ مَعَهُ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْهُ عَلَيَّ ، فَسَكَتَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ أَعَادَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أَصَبْتُ حَدًّا ، فَأَقِمْهُ عَلَيَّ ، فَسَكَتَ عَنْهُ وَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ أَبُو أُمَامَةَ : فَاتَّبَعَ الرَّجُلُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ انْصَرَفَ ، وَاتَّبَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْظُرُ مَا يَرُدُّ عَلَى الرَّجُلِ ، فَلَحِقَ الرَّجُلُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْهُ عَلَيَّ ، قَالَ أَبُو أُمَامَةَ : فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَرَأَيْتَ حِينَ خَرَجْتَ مِنْ بَيْتِكَ أَلَيْسَ قَدْ تَوَضَّأْتَ ، فَأَحْسَنْتَ الْوُضُوءَ ؟ " ، قَالَ : بَلَى ، يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " ثُمَّ شَهِدْتَ الصَّلَاةَ مَعَنَا ؟ " ، فَقَالَ : نَعَمْ ، يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ غَفَرَ لَكَ حَدَّكَ أَوَ قَالَ ذَنْبَكَ " .
ابوامامہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تھے اور ہم لوگ بھی بیٹھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ۔ اتنے میں ایک شخص آیا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ! مجھ سے حد کا کام ہوا ہے تو حد لگائیے مجھ کو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سلم یہ سن کر چپ ہو رہے، اس نے پھر کہا: یا رسول اللہ! میں نے حد کا کام کیا تو حد لگائیے مجھ پر۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم چپ ہو رہے، اس نے تیسری بار بھی ایسا ہی کہا: اتنے میں نماز کھڑی ہوئی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو وہ شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چلا، جب آپ فارغ ہوئے اور میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چلا یہ دیکھنے کو کہ آپ کیا جواب دیتے ہیں اس شخص کو، پھر وہ شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے حد کا کام کیا تو مجھ پر حد لگائیے۔ابوامامہ نے کہا: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس وقت تو اپنے گھر سے نکلا تھا تو نے اچھی طرح سے وضو نہیں کیا؟“ وہ بولا: کیا کیوں نہیں یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تو نے ہمارے ساتھ نماز پڑھی؟“ وہ بولا: ہاں یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اللہ نے بخش دیا تیری حد کو یا تیرے گناہ کو۔“ باب: خون کرنے والے کی توبہ قبول ہو گی
