قسم اور مشیت الٰہی

کل احادیث 20

ان شاء اللہ کہنے کی اہمیت اور قسم اور مشیت الٰہی پر احادیث

جب ہم کوئی کام کرنے کا عزم کریں تو اپنی طاقت کے بجائے اللہ تعالیٰ کی رضا اور مشیت پر بھروسہ کرنا ایمان کا اہم حصہ ہے۔ ان مستند احادیث مبارکہ میں حضرت سلیمان علیہ السلام کا ایک سبق آموز واقعہ بیان کیا گیا ہے، جس میں انہوں نے مستقبل کا ایک ارادہ ظاہر کرتے ہوئے قسم کھائی کہ وہ اپنی تمام بیویوں کے پاس جائیں گے تاکہ ان کے ہاں مجاہد بچے پیدا ہوں، لیکن وہ اس وقت 'ان شاء اللہ' کہنا بھول گئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ کی مشیت کے بغیر ان کا یہ مقصد پورا نہ ہو سکا اور صرف ایک ناقص بچہ پیدا ہوا۔ پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اگر وہ ان شاء اللہ کہہ دیتے تو ان کا مقصد پورا ہو جاتا۔ اسلامی اسکالرز کے مطابق یہ احادیث ہمیں سکھاتی ہیں کہ ہر ارادے پر اللہ کی مشیت کو مقدم رکھنا کامیابی کی ضامن ہے۔

وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ أَوْ نَحْوَهُ .

‏‏‏‏ مذکورہ بالا حدیث اس سند سے بھی مروی ہے۔

وحَدَّثَنِيهِ سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : كُلُّهَا تَحْمِلُ غُلَامًا يُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ .

‏‏‏‏ اس سند سے الفاظ کے فرق کے ساتھ وہی حدیث مروی ہے جو گزری ہے۔

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَالَ سُلَيْمَانُ : لَأَطُوفَنَّ اللَّيْلَةَ عَلَى تِسْعِينَ امْرَأَةً كُلُّهُنَّ تَأْتِي بِفَارِسٍ يُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، فَقَالَ لَهُ صَاحِبُهُ : قُلْ : إِنْ شَاءَ اللَّهُ ، فَلَمْ يَقُلْ : إِنْ شَاءَ اللَّهُ ، فَطَافَ عَلَيْهِنَّ جَمِيعًا ، فَلَمْ يَحْمِلْ مِنْهُنَّ إِلَّا امْرَأَةٌ وَاحِدَةٌ ، جَاءَتْ بِشِقِّ رَجُلٍ ، وَايْمُ الَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، لَوْ قَالَ : إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَجَاهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فُرْسَانًا أَجْمَعُونَ " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”سلیمان علیہ السلام نے ایک دن کہا کہ آج میں رات میں اپنی نوے بیویوں کے پاس جاؤں گا اور ہر ایک کے یہاں ایک گھوڑ سوار بچہ پیدا ہو گا جو اللہ کے راستہ میں جہاد کرے گا۔ اس پر ان کے ساتھی نے کہا کہ ان شاءاللہ۔ لیکن سلیمان علیہ السلام نے ان شاءاللہ نہیں کہا۔چنانچہ وہ اپنی تمام بیویوں کے پاس گئے لیکن ایک عورت کے سوا کسی کو حمل نہیں ہوا اور اس سے بھی ناقص بچہ پیدا ہوا اور اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! اگر انہوں نے ان شاءاللہ کہہ دیا ہوتا تو (تمام بیویوں کے یہاں بچے پیدا ہوتے) اور سب گھوڑوں پر سوار ہو کر اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے ہوتے۔“

حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ ، وَأَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ ، وَاللَّفْظُ لِأَبِي الرَّبِيعِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " كَانَ لِسُلَيْمَانَ سِتُّونَ امْرَأَةً ، فَقَالَ : لَأَطُوفَنَّ عَلَيْهِنَّ اللَّيْلَةَ فَتَحْمِلُ كُلُّ وَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ ، فَتَلِدُ كُلُّ وَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ غُلَامًا فَارِسًا يُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، فَلَمْ تَحْمِلْ مِنْهُنَّ إِلَّا وَاحِدَةٌ ، فَوَلَدَتْ نِصْفَ إِنْسَانٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَوْ كَانَ اسْتَثْنَى لَوَلَدَتْ كُلُّ وَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ غُلَامًا فَارِسًا يُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ " .

ابوہریرہ روایت:

سلیمان علیہ السلام کی ساٹھ بیبیاں تھیں۔ انہوں نے کہا: میں ان سب کے پاس ایک رات میں ہو آؤں گا سب کو پیٹ رہے گا پھر ہر ایک ان میں سے لڑکا جنے گی جو سوار ہو کر اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرے گا (پھر سلیمان علیہ السلام ان سب کے پاس گئے) لیکن کوئی حاملہ نہیں ہوئی سوا ایک عورت کے اور وہ بھی آدھا بچہ جنی (جو کسی کام کا نہ نکلا) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر سلیمان علیہ السلام ان شاء اللہ کہتے تو ہر ایک عورت ایک لڑکا جنتی اور سوار ہوتا اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرتا۔“

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ وَاللَّفْظُ لِابْنِ أَبِي عُمَرَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حُجَيْرٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ نَبِيُّ اللَّهِ : لَأَطُوفَنَّ اللَّيْلَةَ عَلَى سَبْعِينَ امْرَأَةً كُلُّهُنَّ تَأْتِي بِغُلَامٍ يُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، فَقَالَ لَهُ : صَاحِبُهُ أَوِ الْمَلَكُ قُلْ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ، فَلَمْ يَقُلْ وَنَسِيَ ، فَلَمْ تَأْتِ وَاحِدَةٌ مِنْ نِسَائِهِ إِلَّا وَاحِدَةٌ جَاءَتْ بِشِقِّ غُلَامٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَلَوَ قَالَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَمْ يَحْنَثْ وَكَانَ دَرَكًا لَهُ فِي حَاجَتِهِ " ،

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سلیمان بن داؤد علیہ السلام پیغمبر نے کہا: میں اس رات کو ستر عورتوں کے پاس ہو آؤں گا (ایک روایت میں نوے ہیں ایک میں نناوے اور ایک میں سو) ہر ایک ان میں سے ایک لڑکا جنے گی جو جہاد کرے گا اللہ تعالیٰ کی راہ میں، ان کے ساتھی یا فرشتے نے کہا: کہو ان شاء اللہ لیکن انہوں نے نہیں کہا وہ بھول گئے پھر کوئی عورت نہیں جنی البتہ ایک جنی وہ بھی آدھا بچہ۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر وہ ان شاء اللہ کہتے تو ان کی بات نہ جاتی اور ان کا مطلب پورا ہو جاتا۔“

وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ بْنُ هَمَّامٍ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ : لَأُطِيفَنَّ اللَّيْلَةَ عَلَى سَبْعِينَ امْرَأَةً تَلِدُ كُلُّ امْرَأَةٍ مِنْهُنَّ غُلَامًا يُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، فَقِيلَ لَهُ : قُلْ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ، فَلَمْ يَقُلْ ، فَأَطَافَ بِهِنَّ فَلَمْ تَلِدْ مِنْهُنَّ إِلَّا امْرَأَةٌ وَاحِدَةٌ نِصْفَ إِنْسَانٍ ، قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَوَ قَالَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَمْ يَحْنَثْ وَكَانَ دَرَكًا لِحَاجَتِهِ " .

ابوہریرہ روایت:

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ انہوں نے فرمایا: ”سلیمان بن داؤد علیہ السلام نے کہا: میں رات کو ستر عورتوں کے پاس ہو آؤں گا اور ہر ایک ایک لڑکا جنے گی، جو جہاد کرے گا اللہ تعالیٰ کی راہ میں، ان سے کہا گیا ان شاء اللہ کہو، انہوں نے نہیں کہا: اور رات کو سب کے پاس ہو آئے، کوئی نہ جنی مگر ایک عورت وہ بھی آدھا بچہ۔“ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر وہ ان شاء اللہ کہتے تو ان کی بات نہ جاتی اور ان کا مطلب پورا ہوتا۔“

وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، حَدَّثَنِي وَرْقَاءُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ : لَأَطُوفَنَّ اللَّيْلَةَ عَلَى تِسْعِينَ امْرَأَةً كُلُّهَا تَأْتِي بِفَارِسٍ يُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، فَقَالَ لَهُ صَاحِبُهُ : قُلْ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ، فَلَمْ يَقُلْ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ، فَطَافَ عَلَيْهِنَّ جَمِيعًا فَلَمْ تَحْمِلْ مِنْهُنَّ إِلَّا امْرَأَةٌ وَاحِدَةٌ ، فَجَاءَتْ بِشِقِّ رَجُلٍ ، وَايْمُ الَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَوَ قَالَ : إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَجَاهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فُرْسَانًا أَجْمَعُونَ " ،

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سلیمان بن داؤد علیہ السلام نے کہا: میں اس رات کو نوے (۹۰) عورتوں کے پاس ہو آؤں گا ہر ایک سے ایک لڑکا ہو گا جو سوار ہو کر اللہ کی راہ میں جہاد کرے گا، ان کا ساتھی (کوئی آدمی یا فرشتہ) بولا کہو ان شاء اللہ انہوں نے کہا (بھول گئے) پھر وہ سب عورتوں کے پاس گئے لیکن کوئی حاملہ نہ ہوئی، ایک ہوئی وہ بھی ایک ٹکڑا آدمی کا جنی۔ قسم اس کی جس کے ہاتھ میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) کی جان ہے اگر وہ ان شاء اللہ کہتے تو سب کی سب عورتیں لڑکے جنتیں اور سب لڑکے جہاد کرتے سوار ہو کر اللہ کی راہ میں سب مل کر۔“

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ بَكَّارٍ , قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ , قَالَ : أَنْبَأَنَا شُعَيْبٌ , قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو الزِّنَادِ , مِمَّا حَدَّثَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجُ , مِمَّا ذَكَرَ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ بِهِ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ : لَأَطُوفَنَّ اللَّيْلَةَ عَلَى تِسْعِينَ امْرَأَةً , كُلُّهُنَّ يَأْتِي بِفَارِسٍ يُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ . فَقَالَ لَهُ صَاحِبُهُ : إِنْ شَاءَ اللَّهُ , فَلَمْ يَقُلْ : إِنْ شَاءَ اللَّهُ , فَطَافَ عَلَيْهِنَّ جَمِيعًا , فَلَمْ تَحْمِلْ مِنْهُنَّ إِلَّا امْرَأَةٌ وَاحِدَةٌ , جَاءَتْ بِشِقِّ رَجُلٍ , وَأَيْمُ الَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ , لَوْ قَالَ : إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَجَاهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فُرْسَانًا أَجْمَعِينَ " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سلیمان بن داود علیہ السلام نے (قسم کھا کر) کہا: آج رات میں نوے بیویوں کے پاس جاؤں گا، ان میں سے ہر کوئی ایک سوار کو جنم دے گی جو اللہ کے راستے میں جہاد کرے گا، تو ان کے ساتھی نے ان سے کہا: ”ان شاءاللہ“ (اگر اللہ نے چاہا) مگر خود انہوں نے نہیں کہا، پھر وہ ان تمام عورتوں کے پاس گئے لیکن ان میں سوائے ایک عورت کے کوئی بھی حاملہ نہ ہوئی اور اس نے بھی ایک ادھورے بچے کو جنم دیا، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! اگر انہوں نے ”ان شاءاللہ“ کہا ہوتا تو وہ تمام بیٹے اللہ کی راہ میں سوار ہو کر جہاد کرتے“۔

أَخْبَرَنَا نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ , فَقَالَ : إِنْ شَاءَ اللَّهُ , فَقَدِ اسْتَثْنَى " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کسی بات کی قسم کھائے، پھر وہ ان شاءاللہ کہے تو اس نے استثناء کر لیا“۔

أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَفَعَهُ ، " قَالَ سُلَيْمَانُ : لَأَطُوفَنَّ اللَّيْلَةَ عَلَى تِسْعِينَ امْرَأَةً تَلِدُ كُلُّ امْرَأَةٍ مِنْهُنَّ غُلَامًا يُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ . فَقِيلَ لَهُ : قُلْ : إِنْ شَاءَ اللَّهُ ، فَلَمْ يَقُلْ ، فَطَافَ بِهِنَّ , فَلَمْ تَلِدْ مِنْهُنَّ إِلَّا امْرَأَةٌ وَاحِدَةٌ نِصْفَ إِنْسَانٍ " ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ قَالَ : إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَمْ يَحْنَثْ , وَكَانَ دَرَكًا لِحَاجَتِهِ " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سلیمان علیہ السلام نے کہا: آج رات میں نوے (۹۰) عورتوں (بیویوں) کے پاس جاؤں گا، ان میں سے ہر عورت ایک ایسا بچہ جنے گی جو اللہ کی راہ میں جہاد کرے گا۔ ان سے کہا گیا: آپ ان شاءاللہ کہیں، لیکن انہوں نے نہیں کہا۔ سلیمان علیہ السلام اپنی عورتوں کے پاس گئے تو ان میں سے صرف ایک عورت نے آدھا بچہ جنا“، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر انہوں نے ”ان شاءاللہ“ کہا ہوتا تو وہ قسم توڑنے والے نہیں ہوتے اور اپنی حاجت پا لینے میں کامیاب بھی رہتے“۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں