سلام کے آداب
کل احادیث 15
سلام کے آداب اور جواب دینے کا صحیح طریقہ
سلام کرنا اسلام کا ایک خوبصورت شعار ہے جو آپسی محبت اور بھائی چارے کو فروغ دیتا ہے۔ ان احادیث مبارکہ میں سلام کے آداب اور معاشرتی ترتیب کو نہایت آسان انداز میں واضح کیا گیا ہے۔ فرمانِ نبوی ﷺ کے مطابق سلام کرنے کی ایک خاص ترتیب ہے، جس میں سوار کو پیدل چلنے والے پر، پیدل چلنے والے کو بیٹھے ہوئے شخص پر، اور تھوڑے لوگوں کو زیادہ لوگوں کی جماعت پر سلام کرنے کی ہدایت فرمائی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی، احادیث میں غیر مسلموں (اہلِ کتاب اور یہود) کے ساتھ تعامل کا طریقہ بھی سکھایا گیا ہے۔ اگر اہل کتاب سلام کریں، یا یہودی بدنیتی سے سلام کے الفاظ بدل کر کہیں، تو مسلمانوں کو ان کے جواب میں صرف 'وعلیکم' یا 'علیک' کہنے کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ آداب ہمیں سکھاتے ہیں کہ معاشرے میں نظم و ضبط برقرار رکھتے ہوئے کس طرح باوقار انداز میں دوسروں کو سلامتی کی دعا دی جائے۔
وحدثني زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ ، قَالَ : فَقُولُوا وَعَلَيْكَ .
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔
وحدثنا حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ جَمِيعًا ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ كِلَاهُمَا ، عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَفِي حَدِيثِهِمَا جَمِيعًا ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قَدْ قُلْتُ عَلَيْكُمْ وَلَمْ يَذْكُرُوا الْوَاوَ .
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔ اس میں «عَلیْکُمْ» بغیر واؤ کے ہے۔
وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . ح وحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ . ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ كُلُّهُمْ ، عَنْ سُهَيْلٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَفِي حَدِيثِ وَكِيعٍ ، إِذَا لَقِيتُمْ الْيَهُودَ ، وَفِي حَدِيثِ ابْنِ جَعْفَرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، قال : فِي أَهْلِ الْكِتَابِ ، وَفِي حَدِيثِ جَرِيرٍ ، إِذَا لَقِيتُمُوهُمْ وَلَمْ يُسَمِّ أَحَدًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ .
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔
وحدثينيه إِسْمَاعِيلُ بْنُ سَالِمٍ ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا سَيَّارٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ .
سیار سے بھی یہ حدیث اس سند سے مروی ہے۔
حَدَّثَنِي عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مَرْزُوقٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي زِيَادٌ ، أَنَّ ثَابِتًا مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدٍ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُسَلِّمُ الرَّاكِبُ عَلَى الْمَاشِي ، وَالْمَاشِي عَلَى الْقَاعِدِ ، وَالْقَلِيلُ عَلَى الْكَثِيرِ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سلام کرے سوار پیدل پر اور پیدل چلنے والا بیٹھے ہوئے پر اور سلام کریں تھوڑے لوگ بہت لوگوں پر۔“
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا تَبْدَءُوا الْيَهُودَ وَلَا النَّصَارَى بِالسَّلَامِ ، فَإِذَا لَقِيتُمْ أَحَدَهُمْ فِي طَرِيقٍ فَاضْطَرُّوهُ إِلَى أَضْيَقِهِ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہود اور نصاریٰ کو اپنی طرف سے سلام مت کرو اور جب تم کسی یہودی یا نصرانی سے راہ میں ملو تو اس کو دبا دو تنگ راہ کی طرف۔“
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، وَيَحْيَي بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، وَاللَّفْظُ لِيَحْيَي بْنِ يَحْيَي ، قَالَ يَحْيَي بْنُ يَحْيَي : أَخْبَرَنَا ، وَقَالَ الْآخَرُونَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَر ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الْيَهُودَ إِذَا سَلَّمُوا عَلَيْكُمْ يَقُولُ أَحَدُهُمُ السَّامُ عَلَيْكُمْ فَقُلْ عَلَيْكَ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہود جب تم کو سلام کرتے ہیں تو ان میں سے ایک کہتا ہے: «السَّامُ عَلَيْكُمْ» یعنی تم مرو «سام» کے معنی موت ہے تو تم کہو: «عَلَيْكَ» یعنی تم مرو۔
وحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ ، قالا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قالت : اسْتَأْذَنَ رَهْطٌ مِنْ الْيَهُودِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا : السَّامُ عَلَيْكُمْ ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ : بَلْ عَلَيْكُمُ السَّامُ وَاللَّعْنَةُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عَائِشَةُ : " إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الرِّفْقَ فِي الْأَمْرِ كُلِّهِ " ، قَالَتْ : أَلَمْ تَسْمَعْ مَا قَالُوا ؟ ، قَالَ : " قَدْ قُلْتُ وَعَلَيْكُمْ " .
عائشہ روایت:
یہودیوں نے اجازت چاہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے کی۔ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی وہ آئے)، انہوں نے کہا: «السَّامُ عَلَيْكُمْ»۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب میں کہا کہ تمہارے اوپر «سام» ہو اور لعنت۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ! اللہ جل جلالہ ہر کام میں نرمی کو پسند کرتا ہے۔“ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! کیا آپ نے سنا نہیں جو انہوں نے کہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تو اس کا جواب دے دیا اور وعلیکم کہہ دیا۔“ (بس اتنا ہی جواب کافی تھا اور تم نے جو جواب دیا اس سے زیادہ سخت تھا اور ایسی سختی اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں ہے)۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ مُسْلِمٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قالت : أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُنَاسٌ مِنْ الْيَهُودِ ، فَقَالُوا : السَّامُ عَلَيْكَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ ، قَالَ : " وَعَلَيْكُمْ " ، قَالَتْ عَائِشَةُ : قُلْتُ بَلْ عَلَيْكُمُ السَّامُ وَالذَّامُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عَائِشَةُ : " لَا تَكُونِي فَاحِشَةً " ، فَقَالَتْ : مَا سَمِعْتَ مَا قَالُوا ؟ فَقَالَ : " أَوَلَيْسَ قَدْ رَدَدْتُ عَلَيْهِمُ الَّذِي قَالُوا قُلْتُ : وَعَلَيْكُمْ " .
عائشہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چند یہودی آئے۔ انہوں نے کہا: «السَّامُ عَلَيْكَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ» آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «وَعَلَيْكُمْ» “، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: «بَلْ عَلَيْكُمُ السَّامُ وَالذَّامُ» یعنی تمہارے ہی اوپر موت ہو اور برائی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ! زبان بری نہ کرو۔“ انہوں نے کہا: آپ نے نہیں سنا یہود نے جو کہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے سنا جو انہوں نے کہا اور کیا میں نے جواب نہیں دیا جو انہوں نے کہا وہ انہی پر پھیر دیا۔“
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، قال : سَمِعْتُ أَنَسًا ، يقول : قال رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ح وحَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ سَالِمٍ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ جَدِّهِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا سَلَّمَ عَلَيْكُمْ أَهْلُ الْكِتَابِ فَقُولُوا وَعَلَيْكُمْ " .
انس بن مالک روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم کو اہل کتاب سلام کریں تو تم اس کے جواب میں «وَعَلَیٌکُمْ» کہو۔“
