صحیح مسلم حدیث ۱۰۵۸ - رکوع کے بعد ٹھہرنا

رکوع کے بعد قیام اور نماز میں اطمینان

صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۰۵۸

وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، قَالَ : غَلَبَ عَلَى الْكُوفَةِ رَجُلٌ ، قَدْ سَمَّاهُ زَمَنَ ابْنِ الأَشْعَثِ ، فَأَمَرَ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ ، فَكَانَ يُصَلِّي ، فَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ ، قَامَ قَدْرَ مَا أَقُولُ ، اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ ، مِلْءَ السَّمَاوَاتِ ، وَمِلْءَ الأَرْضِ ، وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ ، بَعْدُ أَهْلَ الثَّنَاءِ وَالْمَجْدِ ، لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ " ، قَالَ الْحَكَمُ : فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، فَقَالَ : سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ، يَقُولُ : " كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرُكُوعُهُ ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ ، وَسُجُودُهُ ، وَمَا بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ ، قَرِيبًا مِنَ السَّوَاءِ " ، قَالَ شُعْبَةُ : فَذَكَرْتُهُ لِعَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، فَقَالَ : قَدْ رَأَيْتُ ابْنَ أَبِي لَيْلَى ، فَلَمْ تَكُنْ صَلَاتُهُ هَكَذَا ،

حکم روایت:

ابن اشعث کے زمانہ میں ایک شخص کوفہ پر غالب ہوا۔ اس کا نام حکم نے بیان کیا (وہ شخص مطر بن ناجیہ تھا جیسے دوسری روایت میں اس کی تصریح ہے) اس نے ابوعبیدہ بن عبداللہ بن مسعود کو نماز پڑھانے کے حکم کیا۔ وہ نماز پڑھاتے تھے تو جب رکوع سے سر اٹھاتے اتنی دیر کھڑے ہوتے کہ میں یہ دعا پڑھ لیتا۔ «اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَوَاتِ وَمِلْءَ الأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَىْءٍ بَعْدُ أَهْلَ الثَّنَاءِ وَالْمَجْدِ لاَ مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ وَلاَ مُعْطِىَ لِمَا مَنَعْتَ وَلاَ يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ.» میں نے یہ عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ سے بیان کیا۔انہوں نے کہا: میں نے سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سنا وہ کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قیام اور رکوع اور رکوع کے بعد قیام اور سجدہ اور سجدوں کے بیچ کا جلسہ یہ سب برابر ہوتے۔ شعبہ نے کہا: میں نے یہ حدیث عمرو بن مرہ سے بیان کی تو انہوں نے کہا: میں عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کو دیکھا تھا ان کی نماز تو ایسی نہ تھی۔ (اس سے معلوم ہوا کہ حکم کی روایت ابن ابی لیلیٰ سے اعتبار کے قابل نہیں ہے)۔

صحیح مسلم حدیث ۱۰۵۸ کا خلاصہ

اس روایت میں ابوعبیدہ بن عبداللہ بن مسعود کے نماز پڑھانے کا ذکر ہے کہ وہ رکوع سے سر اٹھانے کے بعد اتنی دیر کھڑے ہوتے کہ ایک لمبی دعا پڑھی جا سکتی تھی۔ پھر عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سنی ہوئی بات بیان کی کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کا قیام، رکوع، رکوع کے بعد قیام، سجدہ اور سجدوں کے درمیان بیٹھنا قریب قریب برابر ہوتا تھا۔ اس روایت کا مرکزی موضوع “رکوع کے بعد قیام” اور “نماز میں اطمینان” ہے۔ متن کے آخر میں شعبہ کا تبصرہ بھی آیا ہے، اس لیے وضاحت میں احتیاط ضروری ہے۔ عام سبق یہ ہے کہ نماز کے ارکان کو ٹھہراؤ کے ساتھ ادا کیا جائے، خاص طور پر قومہ اور جلسہ کو نظر انداز نہ کیا جائے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • رکوع کے بعد کھڑے ہونے کا وقت نماز کا اہم حصہ ہے۔
  • نماز کے ارکان میں جلد بازی کے بجائے ٹھہراؤ ہونا چاہیے۔
  • روایت کے الفاظ میں آنے والے تبصرے کو بھی احتیاط سے سمجھنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں