حدیث ۱۱۱۰
صحیح مسلم : ۱۱۱۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۱۱۰
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ يَعْنِي الأَحْمَرَ ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ ، قَالَ : ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لَهُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ ، عَنْ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَسْتَفْتِحُ الصَّلَاةَ بِالتَّكْبِيرِ ، وَالْقِرَاءَةَ بِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ، وَكَانَ إِذَا رَكَعَ ، لَمْ يُشْخِصْ رَأْسَهُ ، وَلَمْ يُصَوِّبْهُ ، وَلَكِنْ بَيْنَ ذَلِكَ ، وَكَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ ، لَمْ يَسْجُدْ ، حَتَّى يَسْتَوِيَ قَائِمًا ، وَكَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السَّجْدَةِ ، لَمْ يَسْجُدْ ، حَتَّى يَسْتَوِيَ جَالِسًا ، وَكَانَ يَقُولُ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ : التَّحِيَّةَ ، وَكَانَ يَفْرِشُ رِجْلَهُ الْيُسْرَى ، وَيَنْصِبُ رِجْلَهُ الْيُمْنَى ، وَكَانَ يَنْهَى عَنْ عُقْبَةِ الشَّيْطَانِ ، وَيَنْهَى أَنْ يَفْتَرِشَ الرَّجُلُ ذِرَاعَيْهِ افْتِرَاشَ السَّبُعِ ، وَكَانَ يَخْتِمُ الصَّلَاةَ بِالتَّسْلِيمِ " ، وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ نُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي خَالِدٍ : وَكَانَ يَنْهَى عَنْ عَقِبِ الشَّيْطَانِ .
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شروع کرتے نماز کو اللہ اکبر کہہ کر اور قرأت کو «الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» سے (تو «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» آہستہ سے کہتے) اور جب رکوع کرتے تو سر کو نہ اونچا رکھتے نہ نیچا بلکہ (پیٹھ کے برابر رکھتے) بیچ میں اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو سجدہ نہ کرتے یہاں تک کہ سیدھے کھڑے ہو جاتے اور جب سجدہ سے سر اٹھاتے تو دوسرا سجدہ نہ کرتے یہاں تک کہ سیدھا بیٹھ جاتے اور ہر رکعت کے بعد (قعدے میں) التحیات پڑھتے اور بایاں پاؤں بچھا کر داہنا پاؤں کھڑا کرتے اور منع کرتے شیطان کی بیٹھک سے اور منع کرتے تھے اس بات سے کہ آدمی اپنے دونوں ہاتھ زمین پر درندے (جانور) کی طرح بچھائے اور نماز کو سلام سے ختم کرتے تھے۔
