صحیح مسلم حدیث ۱۲۸۳ - میں بھی بھول جاتا ہوں
میں آدمی ہوں، جیسے تم بھولتے ہو میں بھی بھول جاتا ہوں: سجدہ سہو کی اہم حدیث
صحیح مسلم : ۱۲۸۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۲۸۳
ح حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَاللَّفْظُ لَهُ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُوَيْدٍ ، قَالَ : صَلَّى بِنَا عَلْقَمَةُ الظُّهْرَ خَمْسًا ، فَلَمَّا سَلَّمَ ، قَالَ الْقَوْمُ : يَا أَبَا شِبْلٍ ، قَدْ صَلَّيْتَ خَمْسًا ؟ قَالَ : كَلَّا مَا فَعَلْتُ ؟ قَالُوا : بَلَى ، قَالَ : وَكُنْتُ فِي نَاحِيَةِ الْقَوْمِ وَأَنَا غُلَامٌ ، فَقُلْتُ : بَلَى ، قَدْ صَلَّيْتَ خَمْسًا ، قَالَ لِي : وَأَنْتَ أَيْضًا يَا أَعْوَرُ ، تَقُولُ ذَاكَ ؟ قَالَ : قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : فَانْفَتَلَ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ، ثُمَّ سَلَّمَ ، ثُمَّ قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمْسًا ، فَلَمَّا انْفَتَلَ ، تَوَشْوَشَ الْقَوْمُ بَيْنَهُمْ ، فَقَالَ : مَا شَأْنُكُمْ ؟ قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلْ زِيدَ فِي الصَّلَاةِ ؟ قَالَ : لَا ، قَالُوا : فَإِنَّكَ قَدْ صَلَّيْتَ خَمْسًا ، فَانْفَتَلَ ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ، ثُمَّ سَلَّمَ ، ثُمَّ قَالَ : " إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ ، أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ ، " ، وَزَادَ ابْنُ نُمَيْرٍ فِي حَدِيثِهِ ، " فَإِذَا نَسِيَ أَحَدُكُمْ ، فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ " .
ابراھیم بن سوید سے روایت ہے کہ علقمہ نے ظہر کی نماز پڑھائی تو پانچ رکعتیں پڑھیں اور جب سلام پھیرا تو لوگوں نے کہا کہ اے ابوشبل! (علقمہ کی کنیت ہے) آپ نے پانچ رکعتیں پڑھیں۔ انہوں نے کہا: کہ نہیں۔ لوگوں نے کہا: بےشک آپ نے پانچ رکعتیں پڑھیں اور میں ایک کونے میں تھا کم سن بچہ تھا۔ میں نے بھی کہا: ہاں آپ نے پانچ رکعتیں پڑھیں۔ انہوں نے کہا: او کانے! تو بھی یہی کہتا ہے۔ میں نے کہا ہاں۔ یہ سن کر وہ مڑے اور دو سجدے کیے۔ پھر سلام پھیرا اور کہا کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو پانچ رکعتیں پڑھائیں۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں نے کھس پھس شروع کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” کیا ہوا تم کو؟“ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! کیا نماز بڑھ گئی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں، انہوں نے کہا آپ نے پانچ رکعتیں پڑھیں۔ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مڑے اور دو سجدے کیے پھر سلام پھیرا اور فرمایا ”میں آدمی ہوں جیسے تم بھول جاتے ہو میں بھی بھول جاتا ہوں۔“، اور ابن نمیر کی روایت میں اتنا زیادہ ہے کہ ”جب تم میں سے کوئی بھول جائے تو دو سجدے کرے۔“
صحیح مسلم حدیث ۱۲۸۳ کا خلاصہ
یہ حدیث سجدہ سہو کے موضوع پر بہت واضح روایت ہے۔ پہلے علقمہ رحمہ اللہ نے ظہر کی نماز پانچ رکعت پڑھائی۔ لوگوں نے بتایا کہ آپ نے پانچ رکعتیں پڑھیں، پھر ایک کم سن لڑکے نے بھی یہی بات کہی۔ علقمہ نے دو سجدے کیے اور پھر سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایک بار پانچ رکعتیں پڑھا دیں۔ جب صحابہ نے پوچھا کہ کیا نماز بڑھ گئی ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں۔ پھر آپ نے دو سجدے کیے اور فرمایا کہ میں آدمی ہوں جیسے تم بھول جاتے ہو، میں بھی بھول جاتا ہوں۔ ابن نمیر کی روایت میں یہ بھی آیا کہ جب تم میں سے کوئی بھول جائے تو دو سجدے کرے۔ یہ حدیث سجدہ سہو کا طریقہ، نماز میں بھول اور رکعت زیادہ ہونے کے مسئلے کو بہت آسان الفاظ میں سمجھاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نماز میں بھول ہو جائے تو دو سجدے کیے جائیں۔
- غلطی بتانے والا کم عمر ہو تو بھی اس کی درست بات سنی جا سکتی ہے۔
- نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے اپنی بشریت کو واضح فرمایا۔
- نماز میں زیادتی ہو جائے تو اسے سنت کے مطابق درست کیا جاتا ہے۔
