صحیح مسلم حدیث ۱۲۸۷ - زیادتی یا کمی پر دو سجدے
جب نماز میں کچھ زیادہ یا کم ہو جائے: سجدہ سہو کی حدیث
صحیح مسلم : ۱۲۸۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۲۸۷
وحَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : صَلَّيْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَإِمَّا زَادَ أَوْ نَقَصَ ، قَالَ إِبْرَاهِيمُ : وَايْمُ اللَّهِ ، مَا جَاءَ ذَاكَ ، إِلَّا مِنْ قِبَلِي ، قَالَ : فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَحَدَثَ فِي الصَّلَاةِ شَيْءٌ ؟ فَقَالَ : لَا ، قَالَ : فَقُلْنَا لَهُ : الَّذِي صَنَعَ ، فَقَالَ : " إِذَا زَادَ الرَّجُلُ أَوْ نَقَصَ ، فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ " ، قَالَ : ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ .
عبداللہ روایت:
ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زیادہ کیا یا کم کیا۔ ابراہیم نے کہا: اللہ کی قسم یہ (وہم) میری ہی طرف سے ہے۔ ہم نے کہا: یا رسول اللہ! کیا نماز میں کوئی نیا حکم ہوا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں۔“ پھر ہم نے وہ بات کہی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کی تھی (یعنی زیادتی یا نقصان) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب کوئی آدمی کچھ زیادہ کرے یا کم کرے تو چاہیے کہ سہو کے دو سجدے کرے۔“ کہا (راوی نے) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سہو کے دو سجدے کیے۔
صحیح مسلم حدیث ۱۲۸۷ کا خلاصہ
یہ حدیث سجدہ سہو کے اصول کو بہت صاف لفظوں میں بیان کرتی ہے۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، پھر آپ نے زیادہ کیا یا کم کیا۔ راوی ابراہیم نے احتیاط کے ساتھ کہا کہ یہ وہم میری طرف سے ہے۔ صحابہ نے پوچھا کہ کیا نماز میں کوئی نیا حکم ہوا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں۔ پھر جب آپ کو بتایا گیا کہ کیا ہوا تھا تو آپ نے فرمایا کہ جب کوئی آدمی کچھ زیادہ کرے یا کم کرے تو اسے چاہیے کہ سہو کے دو سجدے کرے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود دو سجدے کیے۔ اس روایت میں نماز میں زیادتی، نماز میں کمی، سجدہ سہو اور دو سجدے کا حکم صاف لفظوں میں موجود ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نماز میں زیادہ یا کم ہو جائے تو دو سجدے کیے جائیں۔
- صحابہ نے پہلے یہ معلوم کیا کہ کیا کوئی نیا حکم آیا ہے۔
- راوی نے اپنی روایت میں احتیاط اختیار کی۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے حکم بیان کرنے کے ساتھ خود عمل بھی کیا۔
