صحیح مسلم حدیث ۱۵۰۶ - نماز باجماعت کی فضیلت

نماز باجماعت کی فضیلت اور مسجد تک قدموں کا اجر

صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۵۰۶

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ جَمِيعًا ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ ، قَالَ أَبُو كُرَيْبٍ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَلَاةُ الرَّجُلِ فِي جَمَاعَةٍ ، تَزِيدُ عَلَى صَلَاتِهِ فِي بَيْتِهِ ، وَصَلَاتِهِ فِي سُوقِهِ ، بِضْعًا وَعِشْرِينَ دَرَجَةً ، وَذَلِكَ أَنَّ أَحَدَهُمْ إِذَا تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ، ثُمَّ أَتَى الْمَسْجِدَ ، لَا يَنْهَزُهُ إِلَّا الصَّلَاةُ ، لَا يُرِيدُ إِلَّا الصَّلَاةَ ، فَلَمْ يَخْطُ خَطْوَةً ، إِلَّا رُفِعَ لَهُ بِهَا دَرَجَةٌ ، وَحُطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةٌ ، حَتَّى يَدْخُلَ الْمَسْجِدَ ، فَإِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ ، كَانَ فِي الصَّلَاةِ ، مَا كَانَتِ الصَّلَاةُ هِيَ تَحْبِسُهُ ، وَالْمَلَائِكَةُ يُصَلُّونَ عَلَى أَحَدِكُمْ ، مَا دَامَ فِي مَجْلِسِهِ الَّذِي صَلَّى فِيهِ ، يَقُولُونَ : اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ ، اللَّهُمَّ تُبْ عَلَيْهِ ، مَا لَمْ يُؤْذِ فِيهِ ، مَا لَمْ يُحْدِثْ فِيهِ " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ آدمی کی نماز جماعت سے اس کے گھر اور بازار کی نماز سے بیس پر کئی درجے افضل ہے اور اس کا سبب یہ کہ آدمی نے جب وضو کیا اور اچھی طرح وضو کیا، پھر مسجد کو آیا نہیں اٹھایا اس کو مگر نماز نے اور نہیں ارادہ ہوا اس کا مگر نماز کا تو کوئی قدم نہیں رکھتا ہے وہ مگر اللہ تعالیٰ اس کے عوض میں ایک درجہ بلند کر دیتا ہے اور ایک گنا گھٹا دیتا ہے۔یہاں تک کہ داخل ہوتا ہے وہ پھر جب مسجد میں آ گیا تو گویا وہ نماز ہی میں ہے جب تک نماز اس کو روک رہی ہے اور فرشتے اس کے لئے دعائے خیر کر رہے ہیں، جب تک کہ وہ اپنی جگہ میں ہے جہاں نماز پڑھی ہے اور فرشتے کہتے ہیں کہ یا اللہ! تو اس پر رحم کر، یا اللہ اس کو بخش دے، یا اللہ! تو اس کی توبہ قبول کر جب تک کہ وہ ایذا نہیں دیتا، جب تک وہ حدث نہیں کرتا۔ (یعنی تب تک فرشتے بھی کہتے رہتے ہیں)۔

صحیح مسلم حدیث ۱۵۰۶ کا خلاصہ

یہ حدیث نماز باجماعت کی فضیلت کو بہت صاف انداز میں بیان کرتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آدمی کی جماعت کے ساتھ نماز، گھر یا بازار کی نماز سے بیس سے کچھ زیادہ درجے افضل ہے۔ پھر اس کی وجہ بھی بتائی گئی: جب انسان اچھی طرح وضو کرے، صرف نماز کے ارادے سے مسجد آئے، تو ہر قدم پر اس کا ایک درجہ بلند ہوتا ہے اور ایک گناہ کم کیا جاتا ہے۔ مسجد میں داخل ہونے کے بعد بھی جب تک نماز اسے روکے رکھتی ہے، وہ نماز ہی میں شمار ہوتا ہے۔ فرشتے اس کے لیے دعا کرتے ہیں: اے اللہ اس پر رحم فرما، اسے بخش دے، اس کی توبہ قبول فرما۔ یہ سب اس وقت تک ہے جب تک وہ کسی کو تکلیف نہ دے اور حدث نہ کرے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نماز باجماعت گھر یا بازار کی نماز سے زیادہ فضیلت رکھتی ہے۔
  • مسجد کی طرف نماز کے ارادے سے اٹھایا گیا ہر قدم باعثِ اجر ہے۔
  • مسجد میں نماز کے انتظار کا وقت بھی قیمتی ہے۔
  • فرشتوں کی دعا اس وقت تک ہے جب تک آدمی تکلیف نہ دے اور حدث نہ کرے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں