صحیح مسلم حدیث ۱۵۶۳ - سفر میں نماز، تیمم اور پانی کا واقعہ

سفر میں قضا نماز، تیمم اور پانی کا سبق

صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۵۶۳

وحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ صَخْرٍ الدَّارِمِيُّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ ، حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ زَرِيرٍ الْعُطَارِدِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيَّ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ : " كُنْتُ مَعَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسِيرٍ لَهُ ، فَأَدْلَجْنَا لَيْلَتَنَا ، حَتَّى إِذَا كَانَ فِي وَجْهِ الصُّبْحِ ، عَرَّسْنَا فَغَلَبَتْنَا أَعْيُنُنَا ، حَتَّى بَزَغَتِ الشَّمْسُ ، قَالَ : فَكَانَ أَوَّلَ مَنِ اسْتَيْقَظَ مِنَّا أَبُو بَكْرٍ ، وَكُنَّا لَا نُوقِظُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَنَامِهِ ، إِذَا نَامَ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ ، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ عُمَرُ ، فَقَامَ عِنْدَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَعَلَ يُكَبِّرُ وَيَرْفَعُ صَوْتَهُ بِالتَّكْبِيرِ ، حَتَّى اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ وَرَأَى الشَّمْسَ قَدْ بَزَغَتْ ، قَالَ : ارْتَحِلُوا ، فَسَارَ بِنَا حَتَّى إِذَا ابْيَضَّتِ الشَّمْسُ ، نَزَلَ فَصَلَّى بِنَا الْغَدَاةَ ، فَاعْتَزَلَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ ، لَمْ يُصَلِّ مَعَنَا ، فَلَمَّا انْصَرَفَ ، قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا فُلَانُ ، مَا مَنَعَكَ أَنْ تُصَلِّيَ مَعَنَا ؟ قَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، أَصَابَتْنِي جَنَابَةٌ ، فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَيَمَّمَ بِالصَّعِيدِ ، فَصَلَّى ، ثُمَّ عَجَّلَنِي فِي رَكْبٍ بَيْنَ يَدَيْهِ نَطْلُبُ الْمَاءَ ، وَقَدْ عَطِشْنَا عَطَشًا شَدِيدًا ، فَبَيْنَمَا نَحْنُ نَسِيرُ ، إِذَا نَحْنُ بِامْرَأَةٍ سَادِلَةٍ رِجْلَيْهَا بَيْنَ مَزَادَتَيْنِ ، فَقُلْنَا لَهَا : أَيْنَ الْمَاءُ ؟ قَالَتْ : أَيْهَاهْ ، أَيْهَاهْ ، لَا مَاءَ لَكُمْ ، قُلْنَا : فَكَمْ بَيْنَ أَهْلِكِ وَبَيْنَ الْمَاءِ ؟ قَالَتْ : مَسِيرَةُ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ ، قُلْنَا : انْطَلِقِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : وَمَا رَسُولُ اللَّهِ ، فَلَمْ نُمَلِّكْهَا مِنْ أَمْرِهَا شَيْئًا ، حَتَّى انْطَلَقْنَا بِهَا ، فَاسْتَقْبَلْنَا بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَأَلَهَا ، فَأَخْبَرَتْهُ مِثْلَ الَّذِي أَخْبَرَتْنَا ، وَأَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا مُوتِمَةٌ لَهَا صِبْيَانٌ أَيْتَامٌ ، فَأَمَرَ بِرَاوِيَتِهَ ، فَأُنِيخَتْ ، فَمَجَّ فِي الْعَزْلَاوَيْنِ الْعُلْيَاوَيْنِ ، ثُمَّ بَعَثَ بِرَاوِيَتِهَا ، فَشَرِبْنَا وَنَحْنُ أَرْبَعُونَ رَجُلًا عِطَاشٌ ، حَتَّى رَوِينَا وَمَلَأْنَا كُلَّ قِرْبَةٍ مَعَنَا وَإِدَاوَةٍ وَغَسَّلْنَا صَاحِبَنَا ، غَيْرَ أَنَّا لَمْ نَسْقِ بَعِيرًا ، وَهِيَ تَكَادُ تَنْضَرِجُ مِنَ الْمَاءِ ، يَعْنِي الْمَزَادَتَيْنِ ، ثُمَّ قَالَ : هَاتُوا مَا كَانَ عِنْدَكُمْ ، فَجَمَعْنَا لَهَا مِنْ كِسَرٍ وَتَمْرٍ ، وَصَرَّ لَهَا صُرَّةً ، فَقَالَ لَهَا : اذْهَبِي فَأَطْعِمِي هَذَا عِيَالَكِ ، وَاعْلَمِي أَنَّا لَمْ نَرْزَأْ مِنْ مَائِكِ ، فَلَمَّا أَتَتْ أَهْلَهَا ، قَالَتْ : لَقَدْ لَقِيتُ أَسْحَرَ الْبَشَرِ ، أَوْ إِنَّهُ لَنَبِيٌّ كَمَا زَعَمَ ، كَانَ مِنْ أَمْرِهِ ذَيْتَ وَذَيْتَ ، فَهَدَى اللَّهُ ذَاكَ الصِّرْمَ بِتِلْكَ الْمَرْأَةِ ، فَأَسْلَمَتْ وَأَسْلَمُوا " .

عمران بن حصین روایت:

میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں تھا۔ سو ایک رات شب کو ہم چلے، یہاں تک کہ جب آخری رات ہوئی اترے اور ہماری آنکھ لگ گئی یہاں تک کہ دھوپ نکل آئی۔ سب سے پہلے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ جاگے اور ہماری عادت تھی کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نیند سے نہیں جگاتے تھے (کہ شاید وحی نہ اتری ہو) جب تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود نہ جاگیں۔پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جاگے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھڑے ہو کر بلند آواز سے اللہ اکبر کہنے لگے یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جاگے پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھایا اور سورج کو دیکھا کہ نکل آیا تب فرمایا: ”کہ چلو“ اور ہمارے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی چلے یہاں تک کہ جب دھوپ صاف ہو گئی ہمارے ساتھ صبح کی نماز پڑھی۔ اور ایک شخص جماعت سے الگ رہا کہ اس نے ہمارے ساتھ نماز نہیں پڑھی۔جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے اس سے فرمایا: ”کہ تم کیوں ہمارے ساتھ نماز کے ادا کرنے سے باز رہے۔“ اس نے عرض کی کہ اے اللہ کے نبی! مجھے جنابت ہوگئی ہے۔ سو اس کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو اس نے خاک پر تیمم کیا اور نماز پڑھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چند سواروں کے ساتھ مجھے آگے دوڑایا کہ ہم پانی ڈھونڈیں اور ہم بہت پیاسے ہو گئے تھے۔پھر ہم چلے جاتے تھے کہ ایک عورت کو دیکھا کہ اپنے دونوں پیر لٹکائے دو پکھالوں پر بیٹھی چلی جاتی ہے (یعنی اونٹ پر) تو ہم نے اس سے کہا کہ پانی کہاں ہے؟ اس نے کہا کہ بہت دور ہے تم کو پانی نہیں مل سکتا ہم نے کہا کہ تیرے گھر والوں سے پانی کتنی دور ہے؟ اس نے کہا ایک دن رات کا راستہ ہے۔ پھر ہم نے کہا چل تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس۔ اس نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا ہیں؟ غرض کہ ہم اسے مجبور کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لے آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا حال پوچھا، سو اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے حال سے خبر دی جیسی اس نے خبر دی تھی ہم کو اور کہا کہ وہ یتیموں والی ہے اور اس کے پاس کئی بچے بن باپ کے ہیں۔غرض آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہ اس کے اونٹ کو بٹھایا جائے سو وہ بٹھایا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے پکھالوں کے اوپر کے دہانوں میں کلی کی اور اونٹ کو پھر کھڑا کر دیا۔ پھر سب نے پانی پیا اور ہم سب چالیس آدمی تھے بہت پیاسے یہاں تک کہ ہم سب آسودہ ہو گئے اور اپنے ساتھ کی سب مشکیں اور چھاگلیں بھر لیں اور جس رفیق کو جنابت تھی ان کو بھی نہلوایا مگر کسی اونٹ کو پانی نہیں پلایا اور اس کی پکھالیں ویسی ہی پانی سے پھٹی پڑتی تھیں۔پھر فرمایا: ” تم میں سے جس کے پاس کچھ ہو لاؤ۔“ سو ہم نے بہت ٹکڑوں اور کھجوروں کو جمع کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی پوٹلی باندھی اور اس نیک بخت سے فرمایا: ” کہ یہ لے جا اور اپنے کمسن بچوں کو کھلا دے اور جان لے کہ ہم نے تیرا پانی کچھ نہیں گھٹایا۔“ پھر جب وہ اپنے گھر پہنچی تو کہنے لگی کہ آج میں اس بڑے جادوگر آدمی سے ملی یا بیشک وہ نبی ہے جیسا دعوٰی کرتا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سارا معجزہ بیان کیا کہ یہ یہ گزرا سو اللہ تعالیٰ نے اس گاؤں بھر کو اس عورت کہ وجہ سے ہدایت کی اور وہ بھی اسلام لائی اور گاؤں والے بھی اسلام لائے۔

صحیح مسلم حدیث ۱۵۶۳ کا خلاصہ

اس حدیث میں سفر، قضا نماز، تیمم اور پانی کے واقعے کا ذکر ہے۔ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بتاتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں آخر رات آرام کیا گیا، پھر سب سو گئے یہاں تک کہ سورج نکل آیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے تو وہاں سے چلنے کا حکم دیا، پھر دھوپ صاف ہونے پر صبح کی نماز پڑھائی۔ ایک شخص نے جماعت میں نماز نہ پڑھی کیونکہ اسے جنابت تھی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مٹی سے تیمم کرنے کا حکم دیا، پھر اس نے نماز ادا کی۔ اس کے بعد پانی کی تلاش ہوئی۔ ایک عورت کے پاس پانی کے دو مشکیزے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کے بعد چالیس پیاسے آدمیوں نے پانی پیا، برتن بھرے گئے، اور عورت کو کھجوریں اور کھانے کے ٹکڑے دیے گئے۔ حدیث کا انداز بتاتا ہے کہ مشکل میں نماز، پاکی اور لوگوں کی ضرورت کا خیال ایک ساتھ رکھا گیا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نماز رہ جائے تو موقع ملتے ہی اسے ادا کیا جائے۔
  • پانی نہ ہو یا استعمال ممکن نہ ہو تو تیمم کا حکم اس روایت میں آیا ہے۔
  • مشکل سفر میں بھی نماز اور پاکی کا معاملہ نظرانداز نہیں کیا گیا۔
  • جس سے فائدہ لیا جائے اس کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں