حدیث ۱۷۸۹
صحیح مسلم : ۱۷۸۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۷۸۹
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ بَاتَ لَيْلَةً عِنْدَ مَيْمُونَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ وَهِيَ خَالَتُهُ ، قَالَ : فَاضْطَجَعْتُ فِي عَرْضِ الْوِسَادَةِ ، وَاضْطَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَهْلُهُ فِي طُولِهَا ، فَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى انْتَصَفَ اللَّيْلُ أَوْ قَبْلَهُ بِقَلِيلٍ أَوْ بَعْدَهُ بِقَلِيلٍ ، اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَعَلَ يَمْسَحُ النَّوْمَ عَنْ وَجْهِهِ بِيَدِهِ ، ثُمَّ قَرَأَ الْعَشْرَ الآيَاتِ الْخَوَاتِمَ مِنْ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ ، ثُمَّ قَامَ إِلَى شَنٍّ مُعَلَّقَةٍ فَتَوَضَّأَ مِنْهَا فَأَحْسَنَ وُضُوءَهُ ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : فَقُمْتُ فَصَنَعْتُ مِثْلَ مَا صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ ذَهَبْتُ فَقُمْتُ إِلَى جَنْبِهِ ، فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى رَأْسِي ، وَأَخَذَ بِأُذُنِي الْيُمْنَى يَفْتِلُهَا ، " فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ أَوْتَرَ ، ثُمَّ اضْطَجَعَ حَتَّى جَاءَ الْمُؤَذِّنُ فَقَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ ، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى الصُّبْحَ " .
کریب جو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام ہیں، ان کو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ وہ ایک رات ام المؤمنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا (جو مسلمانوں کی ماں اور ان کی خالہ ہیں) کے گھر رہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ میں تکیہ کے چوڑان میں لیٹا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بی بی صاحبہ اس کی لمبان میں سر رکھ کر لیٹے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سوتے رہے یہاں تک کہ آدھی رات ہو گئی یا کچھ پہلے یا کچھ بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جاگے اور نیند کا اثر اپنے منہ پر سے اپنے ہاتھ سے پونچھنے لگے (اس کا استحباب ثابت ہوا) پھر سورۂ آل عمران کی آخری دس آیتیں پڑھیں (ان آیتوں کا پڑھنا بھی اس وقت مستحب ہوا) پھر ایک لٹکی ہوئی پرانی مشک کے پاس گئے اور اس سے وضو کیا اور خوب وضو کیا پھر نماز پڑھنے کھڑے ہوئے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ پھر میں نے بھی ویسا ہی کیا جیسا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا (یعنی آیتوں کا پڑھنا اور منہ سے نیند کا اثر پونچھنا) پھر گیا میں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بازو پر کھڑا ہوا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سیدھا ہاتھ میرے سر پر رکھا اور میرا داہنا کان پکڑ اس کو مروڑتے تھے (تاکہ بچہ کو نیند نہ آ جائے) پھر دو رکعت پڑھی، پھر دو رکعت، پھر دو رکعت، پھر دو رکعت، پھر دو، پھر وتر پڑھے۔ پھر لیٹ رہے یہاں تک کہ مؤذن آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور ہلکی دو رکعتیں پڑھیں۔ پھر نکل کر صبح کے فرض ادا کئے۔
