صحیح مسلم حدیث ۱۷۹ - سنت پر عمل اور غلطی کا رد
سنت پر چلنا اور غلط کام کو غلط سمجھنا
صحیح مسلم : ۱۷۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۷۹
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ النَّضْرِ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ وَاللَّفْظُ لِعَبْدٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْمِسْوَرِ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَن رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَا مِنْ نَبِيٍّ بَعَثَهُ اللَّهُ فِي أُمَّةٍ قَبْلِي ، إِلَّا كَانَ لَهُ مِنْ أُمَّتِهِ حَوَارِيُّونَ ، وَأَصْحَابٌ يَأْخُذُونَ بِسُنَّتِهِ وَيَقْتَدُونَ بِأَمْرِهِ ، ثُمَّ إِنَّهَا تَخْلُفُ مِنْ بَعْدِهِمْ خُلُوفٌ ، يَقُولُونَ مَا لَا يَفْعَلُونَ ، وَيَفْعَلُونَ مَا لَا يُؤْمَرُونَ ، فَمَنْ جَاهَدَهُمْ بِيَدِهِ فَهُوَ مُؤْمِنٌ ، وَمَنْ جَاهَدَهُمْ بِلِسَانِهِ فَهُوَ مُؤْمِنٌ ، وَمَنْ جَاهَدَهُمْ بِقَلْبِهِ فَهُوَ مُؤْمِنٌ ، وَلَيْسَ وَرَاءَ ذَلِكَ مِنَ الإِيمَانِ ، حَبَّةُ خَرْدَلٍ " ، قَالَ أَبُو رَافِعٍ : فَحَدَّثْتُهُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، فَأَنْكَرَهُ عَلَيَّ ، فَقَدِمَ ابْنُ مَسْعُودٍ ، فَنَزَلَ بِقَنَاةَ ، فَاسْتَتْبَعَنِي إِلَيْهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يَعُودُهُ ، فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ ، فَلَمَّا جَلَسْنَا سَأَلْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ ، حَدَّثَنِيهِ كَمَا حَدَّثْتُهُ ابْنَ عُمَرَ ، قَالَ صَالِحٌ : وَقَدْ تُحُدِّثَ بِنَحْوِ ذَلِكَ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ
عبداللہ بن مسعود روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے مجھ سے پہلے کوئی نبی ایسا نہیں بھیجا کہ جس کے اس کی امت میں سے حواری نہ ہوں اور اصحاب نہ ہوں جو اس کے طریقے پر چلتے ہیں اور اس کے حکم کی پیروی کرتے ہیں۔ پھر ان لوگوں کے بعد ایسے نالائق لوگ پیدا ہوتے ہیں جو زبان سے کہتے ہیں اور کرتے نہیں اور ان کاموں کو کرتے ہیں جن کا حکم نہیں۔ پھر جو کوئی ان نالائقوں سے لڑے ہاتھ سے وہ مؤمن ہے اور جو کوئی لڑے زبان سے (ان کو برا کہے ان کی باتوں کا رد کرے) وہ بھی مؤمن ہے اور جو کوئی لڑے ان سے دل سے (ان کو برا جانے) وہ بھی مؤمن ہے اور اس کے بعد رائی کے دانے برابر بھی ایمان نہیں۔“ (یعنی اگر دل سے بھی برا نہ جانے تو اس میں ذرہ برابر بھی ایمان نہیںابورافع (جنہوں نے اس حدیث کو سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کیا اور نام ان کا اسلم یا ابراہیم یا ہرمز یا ثابت بن یزید تھا۔ (مولیٰ ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے) نے کہا: میں نے یہ حدیث سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے نہ مانا اور انکار کیا۔اتفاق سے میرے پاس سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ آئے اور قناۃ (مدینہ کی وادیوں میں سے ایک وادی کا نام ہے) میں اترے تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما مجھے اپنے ساتھ لے گئے، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی عیادت کو میں ان کے ساتھ گیا۔ جب ہم بیٹھے تو میں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے اسی طرح بیان کیا جیسے میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بیان کیا تھا۔صالح بن کیسان نے کہا کہ حدیث ابورافع سے اسی طرح بیان کی گئی ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۱۷۹ کا خلاصہ
یہ حدیث انبیاء علیہم السلام کے سچے ساتھیوں اور بعد میں آنے والے بگاڑ کا ذکر کرتی ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ ہر نبی کے حواری اور اصحاب ہوتے تھے جو اس کی سنت پر چلتے اور اس کے حکم کی پیروی کرتے تھے۔ پھر بعد میں ایسے لوگ آتے جو زبان سے وہ کہتے جو کرتے نہیں، اور ایسے کام کرتے جن کا حکم نہیں ہوتا۔ اس کے بعد حدیث میں بتایا گیا کہ ایسے لوگوں کے خلاف ہاتھ، زبان یا دل سے جدوجہد کرنا ایمان سے ہے۔ اس میں سنت پر چلنے کی حدیث، کہتے ہیں کرتے نہیں حدیث، اور دل سے برا جاننا ایمان جیسے موضوعات آتے ہیں۔ روایت کا پیغام یہ ہے کہ سچی پیروی صرف دعوے سے نہیں، عمل اور غلطی کو غلط سمجھنے سے ظاہر ہوتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- انبیاء کے سچے ساتھی ان کے طریقے اور حکم کی پیروی کرتے تھے۔
- زبان سے کہنا اور عمل نہ کرنا ناپسندیدہ روش کے طور پر بیان ہوا ہے۔
- غلط رویے کا مقابلہ ہاتھ، زبان یا دل سے کیا جا سکتا ہے۔
- دل سے بھی برا نہ سمجھنا ایمان کے لیے خطرناک بات بتائی گئی ہے۔
