صحیح مسلم حدیث ۱۸۱۸ - گھر والوں کو تہجد کی ترغیب
گھر والوں کو رات کی نماز کی یاد دہانی: انسان کے بحث کرنے کا ذکر
صحیح مسلم : ۱۸۱۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۸۱۸
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ ، أَنَّ الْحُسَيْنَ بْنَ عَلِيّ حَدَّثَهُ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَرَقَهُ ، وَفَاطِمَةَ ، فَقَالَ : " أَلَا تُصَلُّونَ ؟ فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّمَا أَنْفُسُنَا بِيَدِ اللَّهِ ، فَإِذَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَنَا بَعَثَنَا ، فَانْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قُلْتُ لَهُ ذَلِكَ ، ثُمَّ سَمِعْتُهُ وَهُوَ مُدْبِرٌ يَضْرِبُ فَخِذَهُ ، وَيَقُولُ : وَكَانَ الإِنْسَانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلًا " .
علی بن ابی طالب روایت:
ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو دیکھنے کے لئے یوں ہی تشریف لے گئے اور فرمایا: ”تم لوگ نماز نہیں پڑھتے۔“ (یعنی تہجد) تو میں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! ہماری جانیں اللہ کے ہاتھ میں ہیں وہ جب چاہتا ہے ہمیں چھوڑتا ہے۔ جب میں نے یہ کہا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوٹ گئے۔ اور میں نے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ران پر ہاتھ مارتے تھے (یہ عرب کا قاعدہ ہے کہ افسوس کے وقت) اور فرماتے تھے: «وَكَانَ الإِنْسَانُ أَكْثَرَ شَىْءٍ جَدَلاً» ”انسان سب چیزوں سے زیادہ جھگڑالو ہے۔“
صحیح مسلم حدیث ۱۸۱۸ کا خلاصہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک رات ان کے اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ تم لوگ نماز نہیں پڑھتے؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ ہماری جانیں اللہ کے ہاتھ میں ہیں، وہ جب چاہتا ہے ہمیں اٹھا دیتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس ہوئے اور یہ آیت پڑھتے ہوئے گئے کہ انسان سب چیزوں سے زیادہ جھگڑالو ہے۔ اس حدیث کا اصل موضوع گھر والوں کو رات کی نماز کی ترغیب اور عذر کے جواب میں محتاط رویہ ہے۔ روایت میں تہجد کی یاد دہانی ہے، مگر زبردستی یا سخت حکم کا ذکر نہیں۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلى الله عليه وسلم اپنے گھر والوں کو بھی عبادت کی طرف متوجہ فرماتے تھے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- گھر والوں کو رات کی نماز کی یاد دہانی کرانا اچھا عمل ہے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے علی اور فاطمہ رضی اللہ عنہما کو نماز کی طرف متوجہ فرمایا۔
- انسان بعض اوقات عذر پیش کر کے بحث میں پڑ جاتا ہے۔
- حدیث میں ترغیب ہے، مگر زبردستی کا بیان نہیں۔
