حدیث ۲۰۴۷
صحیح مسلم : ۲۰۴۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۰۴۷
وحَدَّثَنَا إسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ابْنُ رافع ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : سَمِعْتُهُ يَقُولُ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَامَ يَوْمَ الْفِطْرِ فَصَلَّى فَبَدَأَ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ ، ثُمَّ خَطَبَ النَّاسَ فَلَمَّا فَرَغَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ وَأَتَى النِّسَاءَ ، فَذَكَّرَهُنَّ وَهُوَ يَتَوَكَّأُ عَلَى يَدِ بِلَالٍ ، وَبِلَالٌ بَاسِطٌ ثَوْبَهُ يُلْقِينَ النِّسَاءُ صَدَقَةً ، قُلْتُ لِعَطَاءٍ : " زَكَاةَ يَوْمِ الْفِطْرِ ؟ " قَالَ : " لَا وَلَكِنْ صَدَقَةً يَتَصَدَّقْنَ بِهَا حِينَئِذٍ ، تُلْقِي الْمَرْأَةُ فَتَخَهَا وَيُلْقِينَ وَيُلْقِينَ " ، قُلْتُ لِعَطَاءٍ : " أَحَقًّا عَلَى الْإِمَامِ الْآنَ أَنْ يَأْتِيَ النِّسَاءَ حِينَ يَفْرُغُ فَيُذَكِّرَهُنَّ ؟ " قَالَ : " إِي لَعَمْرِي إِنَّ ذَلِكَ لَحَقٌّ عَلَيْهِمْ ، وَمَا لَهُمْ لَا يَفْعَلُونَ ذَلِكَ " .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عید الفطر کے پہلے نماز پڑھی۔ پھر لوگوں پر خطبہ پڑھا اور جب فارغ ہوئے اترے اور عورتوں میں تشریف لائے اور ان کو نصیحت کی اور وہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے ہاتھ تکیہ لگائے ہوئے تھے اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ اپنا کپڑا پھیلائے ہوئے تھے۔ اور عورتیں صدقہ ڈالتی جاتی تھیں راوی نے کہا: میں نے عطاء سے پوچھا کہ یہ صدقہ فطر تھا؟ انہوں نے کہا: نہیں یہ اور صدقہ تھا کہ دہ دیتی تھیں۔ غرض ہر عورت چھلے ڈالتی تھی اور پھر دوسری اور پھر تیسری۔ میں نے عطاء سے کہا کہ اب بھی امام کو واجب ہے کہ عورتوں کے پاس جائے۔ جب خطبہ سے فارغ ہو اور ان کو نصیحت کرے تو انہوں نے کہا کیوں نہیں۔ قسم ہے مجھے اپنی جان کی بے شک اماموں کا حق ہے کہ ان کے پاس جائیں۔ اور اللہ جانے انہیں کیا ہو گیا ہے کہ وہ اب اس پر عمل نہیں کرتے۔
