حدیث ۲۰۵۳

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۰۵۳

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَخْرُجُ يَوْمَ الْأَضْحَى وَيَوْمَ الْفِطْرِ ، فَيَبْدَأُ بِالصَّلَاةِ فَإِذَا صَلَّى صَلَاتَهُ وَسَلَّمَ قَامَ ، فَأَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ وَهُمْ جُلُوسٌ فِي مُصَلَّاهُمْ ، فَإِنْ كَانَ لَهُ حَاجَةٌ بِبَعْثٍ ذَكَرَهُ لِلنَّاسِ ، أَوْ كَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ بِغَيْرِ ذَلِكَ أَمَرَهُمْ بِهَا ، وَكَانَ ، يَقُولُ : " تَصَدَّقُوا تَصَدَّقُوا تَصَدَّقُوا " ، وَكَانَ أَكْثَرَ مَنْ يَتَصَدَّقُ النِّسَاءُ ، ثُمَّ يَنْصَرِفُ فَلَمْ يَزَلْ كَذَلِكَ حَتَّى كَانَ مَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ ، فَخَرَجْتُ مُخَاصِرًا مَرْوَانَ حَتَّى أَتَيْنَا الْمُصَلَّى ، فَإِذَا كَثِيرُ بْنُ الصَّلْتِ قَدْ بَنَى مِنْبَرًا مِنْ طِينٍ وَلَبِنٍ ، فَإِذَا مَرْوَانُ يُنَازِعُنِي يَدَهُ كَأَنَّهُ يَجُرُّنِي نَحْوَ الْمِنْبَرِ ، وَأَنَا أَجُرُّهُ نَحْوَ الصَّلَاةِ ، فَلَمَّا رَأَيْتُ ذَلِكَ مِنْهُ ، قُلْتُ : أَيْنَ الِابْتِدَاءُ بِالصَّلَاةِ ؟ فَقَالَ : لَا يَا أَبَا سَعِيدٍ قَدْ تُرِكَ مَا تَعْلَمُ ، قُلْتُ : كَلَّا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا تَأْتُونَ بِخَيْرٍ مِمَّا أَعْلَمُ ثَلَاثَ مِرَارٍ ، ثُمَّ انْصَرَفَ .

‏‏‏‏ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید قربان اور عید الفطر میں جب نکلتے تو پہلے نماز پڑھتے۔ پھر جب نماز کا سلام پھیرتے تو لوگوں کی طرف منہ کر کے کھڑے ہوتے اور لوگ سب بیٹھے رہتے اپنی نماز کی جگہ پر۔ پھر اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی لشکر روانہ کرنے کی ضرورت ہوتی تو لوگوں سے بیان کرتے یا اور کوئی کام ہوتا تو اس کا حکم دیتے اور فرماتے: ”صدقہ دو، صدقہ دو، صدقہ دو۔“ اور اکثر عورتیں اس دن صدقہ دیتیں پھر گھر کو لوٹتے۔ غرض آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہی عادت رہی یہاں تک کہ مروان بن حکم حاکم ہوا اور میں اس کے ساتھ ہاتھ میں ہاتھ دے کر نکلا یہاں تک کہ عید گاہ میں آئے اور وہاں کثیر بن حلت نے ایک منبر بنا رکھا تھا گارے اور اینٹوں سے۔ مروان نے مجھ سے اپنا ہاتھ چھڑانے لگا گویا وہ مجھے منبر کی طرف کھینچتا تھا اور میں اس کو نماز کی طرف پھر جب میں نے یہ دیکھا تو اس سے کہا: نماز کا پہلے پڑھنا کہاں گیا؟ اس نے کہا: اے ابوسعید! چھٹ گئ وہ سنت جو تم جانتے ہو۔ میں نے کہا: ہرگز نہیں ہو سکتا۔ قسم ہے اس پروردگار کی کہ میری جان اس کے ہاتھ میں ہے تم بہتر کام کر سکو اس سے جو میں چاہتا ہوں، (یعنی بدعت سنت کے برابر نہیں ہو سکتی، بہتر ہونا تو کجا) غرض یہ بات میں نے اس سے تین بار کہی پھر لوٹ گیا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں