صحیح مسلم حدیث ۲۰۹۸ - عذاب قبر سے پناہ اور نماز کسوف
عذاب قبر کی حدیث: سورج گہن اور پناہ مانگنے کا عمل
صحیح مسلم : ۲۰۹۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۰۹۸
وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ عَمْرَةَ ، أَنَّ يَهُودِيَّةً أَتَتْ عَائِشَةَ تَسْأَلُهَا ، فَقَالَتْ : أَعَاذَكِ اللَّهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ قَالَتْ عَائِشَةُ : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، يُعَذَّبُ النَّاسُ فِي الْقُبُورِ ؟ قَالَتْ عَمْرَةُ : فَقَالَتْ عَائِشَةُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَائِذًا بِاللَّهِ " ، ثُمَّ رَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ غَدَاةٍ مَرْكَبًا ، فَخَسَفَتِ الشَّمْسُ . قَالَتْ عَائِشَةُ : فَخَرَجْتُ فِي نِسْوَةٍ بَيْنَ ظَهْرَيِ الْحُجَرِ فِي الْمَسْجِدِ ، فَأَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَرْكَبِهِ ، حَتَّى انْتَهَى إِلَى مُصَلَّاهُ الَّذِي كَانَ يُصَلِّي فِيهِ ، فَقَامَ وَقَامَ النَّاسُ وَرَاءَهُ . قَالَتْ عَائِشَةُ : فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا ، ثُمَّ رَكَعَ فَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا ، ثُمَّ رَفَعَ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا ، وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ ، ثُمَّ رَكَعَ فَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا ، وَهُوَ دُونَ ذَلِكَ الرُّكُوعِ ، ثُمَّ رَفَعَ وَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ ، فَقَالَ : " إِنِّي قَدْ رَأَيْتُكُمْ تُفْتَنُونَ فِي الْقُبُورِ كَفِتْنَةِ الدَّجَّالِ " . قَالَتْ عَمْرَةُ : فَسَمِعْتُ عَائِشَةَ ، تَقُولُ : فَكُنْتُ أَسْمَعُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ يَتَعَوَّذُ مِنْ عَذَابِ النَّارِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ .
عمرہ روایت:
ایک یہودی عورت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے آ کر سوال کرنے لگی اور اس نے کہا: اللہ تعالیٰ آپ رضی اللہ عنہا کو عذاب قبر سے بچائے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! کیا لوگوں کو قبروں میں عذاب ہو گا؟ عمرہ نے کہا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی پناہ۔“پھر سوار ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن صبح کو ایک سواری پر اور سورج گہن ہوا۔ فرمایا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ میں بھی نکلی اور عورتوں کے ساتھ حجروں کے پیچھے سے مسجد میں آئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری سے اترے اور اپنی نماز کی جگہ تک تشریف لے گئے جہاں ہمیشہ امامت کرتے نماز میں اور کھڑے ہوئے اور بہت لمبا قیام کیا۔ اور لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہو گئے۔سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت لمبا قیام کیا پھر رکوع کیا اور لمبا رکوع، پھر اٹھے اور بہت لمبا قیام کیا مگر وہ پہلے قیام سے کم تھا، پھر رکوع کیا اور لمبا رکوع کیا، مگر وہ پہلے رکوع سے کم تھا، پھر سر اٹھایا اور آفتاب صف ہوا۔ اور فرمایا: کہ ”میں نے تم کو دیکھا کہ تم قبروں میں جانچے جاؤ گے، جیسے دجال کے وقت جانچے جاؤ گے۔“عمرہ نے کہا کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا کہ فرماتی تھیں کہ میں نے اس کے بعد سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پناہ مانگا کرتے تھے دوزخ کے عذاب سے اور قبر کے عذاب سے۔
صحیح مسلم حدیث ۲۰۹۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں عذاب قبر، نماز کسوف، اور اللہ سے پناہ مانگنے کا ذکر ایک ہی واقعہ میں آیا ہے۔ عمرہ بیان کرتی ہیں کہ ایک یہودی عورت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئی اور عذاب قبر سے پناہ کی بات کہی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کیا لوگوں کو قبروں میں عذاب ہو گا؟ پھر ایک دن سورج گہن ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری سے اتر کر اپنی نماز کی جگہ آئے، لوگوں نے آپ کے پیچھے نماز پڑھی، آپ نے لمبا قیام اور لمبا رکوع کیا۔ سورج صاف ہونے کے بعد آپ نے فرمایا کہ تم قبروں میں آزمائے جاؤ گے جیسے دجال کے وقت آزمائے جاؤ گے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اس کے بعد انہوں نے آپ کو دوزخ اور قبر کے عذاب سے پناہ مانگتے سنا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- عذاب قبر سے اللہ کی پناہ مانگنا اس روایت میں آیا ہے۔
- سورج گہن کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لمبی نماز پڑھائی۔
- قبر کی آزمائش کا ذکر خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔
