حدیث ۲۱۴۰
صحیح مسلم : ۲۱۴۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۱۴۰
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَتَى عَلَى امْرَأَةٍ تَبْكِي عَلَى صَبِيٍّ لَهَا ، فَقَالَ لَهَا : " اتَّقِي اللَّهَ وَاصْبِرِي " ، فَقَالَتْ : وَمَا تُبَالِي بِمُصِيبَتِي ، فَلَمَّا ذَهَبَ . قِيلَ لَهَا : إِنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخَذَهَا مِثْلُ الْمَوْتِ ، فَأَتَتْ بَابَهُ فَلَمْ تَجِدْ عَلَى بَابِهِ بَوَّابِينَ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَمْ أَعْرِفْكَ ، فَقَالَ : " إِنَّمَا الصَّبْرُ عِنْدَ أَوَّلِ صَدْمَةٍ " ، أَوَ قَالَ : " عِنْدَ أَوَّلِ الصَّدْمَةِ " .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک عورت کے پاس سے گزرے اور وہ اپنے لڑکے پر رو رہی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ سے ڈر اور صبر کر۔“ اس نے کہا: تم کو میری سی مصیبت نہیں پہنچی۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم چلے گئے تو لوگوں نے کہا: وہ تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تھے تو اس کو ایسا برا معلوم ہوا کہ گویا موت ہو گئی یعنی آپ کو جواب دینا برا معلوم ہوا اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر آئی اور وہاں کوئی چوکیدار نہ پایا (جیسے دنیا داروں کے دروازہ پر ہوتا ہے) اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے آپ کو پہچانا نہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صبر تو وہی ہے جو صدمہ کے شروع میں ہو۔“
