حدیث ۲۱۸۹
صحیح مسلم : ۲۱۸۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۱۸۹
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، وَهَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، واللفظ لهارون ، وحرملة ، قَالَ هَارُونُ : حَدَّثَنَا ، وَقَالَ الْآخَرَانِ : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ هُرْمُزَ الْأَعْرَجُ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ شَهِدَ الْجَنَازَةَ حَتَّى يُصَلَّى عَلَيْهَا فَلَهُ قِيرَاطٌ ، وَمَنْ شَهِدَهَا حَتَّى تُدْفَنَ فَلَهُ قِيرَاطَانِ " ، قِيلَ : وَمَا الْقِيرَاطَانِ ؟ ، قَالَ : مِثْلُ الْجَبَلَيْنِ الْعَظِيمَيْنِ ، انْتَهَى حَدِيثُ أَبِي الطَّاهِرِ ، وَزَادَ الْآخَرَانِ : قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : قَالَ سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يُصَلِّي عَلَيْهَا ثُمَّ يَنْصَرِفُ ، فَلَمَّا بَلَغَهُ حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : لَقَدْ ضَيَّعْنَا قَرَارِيطَ كَثِيرَةً ،
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو حاضر رہے جنازہ پر جب تک کہ نماز پڑھی جائے اس کو قیراط کا ثواب ہے اور جو دفن تک حاضر رہے اس کو دو قیراط کا ثواب ہے۔“ راوی نے کہا: دو قیراط کتنے ہوتے ہیں؟ کہا: ”دو بڑے پہاڑوں کے برابر ہیں۔“ ابوطاہر کی حدیث تمام ہو گئی۔ اور دوسرے دو راویوں نے یہ بھی زیادہ کہا کہ ابن شہاب نے کہا کہ سالم نے کہا کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی عادت تھی کہ نماز پڑھ کر جنازہ پر سے چلے جاتے تھے پھر جب سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت سنی تو کہا کہ ہم نے بہت سے قیراط ضائع کیے (یعنی افسوس کیا)۔
