حدیث ۲۱۹۵
صحیح مسلم : ۲۱۹۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۱۹۵
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنِي حَيْوَةُ ، حَدَّثَنِي أَبُو صَخْرٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ ، أَنَّ دَاوُدَ بْنَ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ حَدَّثَهُ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ كَانَ قَاعِدًا عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، إِذْ طَلَعَ خَبَّابٌ صَاحِبُ الْمَقْصُورَةِ ، فَقَالَ : يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ أَلَا تَسْمَعُ مَا يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ خَرَجَ مَعَ جَنَازَةٍ مِنْ بَيْتِهَا وَصَلَّى عَلَيْهَا ، ثُمَّ تَبِعَهَا حَتَّى تُدْفَنَ ، كَانَ لَهُ قِيرَاطَانِ مِنْ أَجْرٍ ، كُلُّ قِيرَاطٍ مِثْلُ أُحُدٍ ، وَمَنْ صَلَّى عَلَيْهَا ، ثُمَّ رَجَعَ كَانَ لَهُ مِنَ الْأَجْرِ مِثْلُ أُحُدٍ " ، فَأَرْسَلَ ابْنُ عُمَرَ خَبَّابًا إِلَى عَائِشَةَ ، يَسْأَلُهَا عَنْ قَوْلِ أَبِي هُرَيْرَةَ ، ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَيْهِ فَيُخْبِرُهُ مَا قَالَتْ ، وَأَخَذَ ابْنُ عُمَرَ قَبْضَةً مِنْ حَصْبَاءِ الْمَسْجِدِ يُقَلِّبُهَا فِي يَدِهِ ، حَتَّى رَجَعَ إِلَيْهِ الرَّسُولُ ، فَقَالَ : قَالَتْ عَائِشَةُ : صَدَقَ أَبُو هُرَيْرَةَ ، فَضَرَبَ ابْنُ عُمَرَ بِالْحَصَى الَّذِي كَانَ فِي يَدِهِ الْأَرْضَ ، ثُمَّ قَالَ : لَقَدْ فَرَّطْنَا فِي قَرَارِيطَ كَثِيرَةٍ .
سیدنا عامر بن سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ وہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھے تھے کہ خباب رضی اللہ عنہ مقصورہ والے آئے اور کہا: اے عبداللہ سنتے ہو کہ ابوہریرہ کیا کہتے ہیں، کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ ”جو جنازہ کے ساتھ اپنے گھر سے نکلے اور اس پر نماز پڑھ کر ساتھ جائے دفن ہونے تک تو اس کو دو قیراط ثواب ہے ہر قیراط احد کے برابر ہے اور جو نماز پڑھ کے لوٹ جائے تو اس کو احد (پہاڑ) کے برابر ثواب ہے۔“ تو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے سیدنا خباب رضی اللہ عنہ کو ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں بھیجا کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی بات کو پوچھیں۔ وہ گئے اور لوٹ کر آئے۔ اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک مٹھی بھر کے کنکریاں ہاتھ میں لیں اور ان کو لوٹ پوت کرنے لگے (یعنی فکر میں تھے) غرض جب وہ لوٹ کر آئے تو کہا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی بات کو سچا کہتی ہیں، تب سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کنکریاں ہاتھ سے پھینک دیں اور کہا: افسوس ہم نے بہت سے قیراط کا نقصان کیا۔
