صحیح مسلم حدیث ۲۲۳۲ - نماز جنازہ کی جامع دعا

نماز جنازہ کی دعا: مغفرت، رحمت اور قبر کی کشادگی

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۲۳۲

وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ سَمِعَهُ يَقُولُ : سَمِعْتُ عَوْفَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى جَنَازَةٍ ، فَحَفِظْتُ مِنْ دُعَائِهِ وَهُوَ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ ، وَعَافِهِ وَاعْفُ عَنْهُ ، وَأَكْرِمْ نُزُلَهُ وَوَسِّعْ مُدْخَلَهُ ، وَاغْسِلْهُ بِالْمَاءِ وَالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ ، وَنَقِّهِ مِنَ الْخَطَايَا كَمَا نَقَّيْتَ الثَّوْبَ الْأَبْيَضَ مِنَ الدَّنَسِ ، وَأَبْدِلْهُ دَارًا خَيْرًا مِنْ دَارِهِ ، وَأَهْلًا خَيْرًا مِنْ أَهْلِهِ ، وَزَوْجًا خَيْرًا مِنْ زَوْجِهِ ، وَأَدْخِلْهُ الْجَنَّةَ وَأَعِذْهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ ، أَوْ مِنْ عَذَابِ النَّارِ " ، قَالَ : حَتَّى تَمَنَّيْتُ أَنْ أَكُونَ أَنَا ذَلِكَ الْمَيِّتَ ، قَالَ : وحَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرٍ ، حَدَّثَهُ عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِ هَذَا الْحَدِيثِ أَيْضًا ،

‏‏‏‏ سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جنازہ پر نماز پڑھی اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا میں سے یہ لفظ یاد رکھے «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ وَعَافِهِ وَاعْفُ عَنْهُ وَأَكْرِمْ نُزُلَهُ وَوَسِّعْ مُدْخَلَهُ وَاغْسِلْهُ بِالْمَاءِ وَالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ وَنَقِّهِ مِنَ الْخَطَايَا كَمَا نَقَّيْتَ الثَّوْبَ الأَبْيَضَ مِنَ الدَّنَسِ وَأَبْدِلْهُ دَارًا خَيْرًا مِنْ دَارِهِ وَأَهْلاً خَيْرًا مِنْ أَهْلِهِ وَزَوْجًا خَيْرًا مِنْ زَوْجِهِ وَأَدْخِلْهُ الْجَنَّةَ وَأَعِذْهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ أَوْ مِنْ عَذَابِ النَّارِ» یعنی ”یا اللہ! بخش اس کو اور رحم کر اور تندرستی دے اس کو، اور معاف کر اس کو، اور اپنی عنایت سے میزبانی کر اس کی، اس کا گھر (قبر) کشادہ کر، اور اس کو پانی اور برف اور اولوں سے دھو دے، اور اس کو گناہوں سے صاف کر دے، جیسے سفید کپڑا میل سے صاف ہو جاتا ہے اور اس کو اس گھر کے بدلے اس سے بہتر گھر دے، اور اس کے لوگوں سے بہتر لوگ دے اور اس کی بیوی سے بہتر بیوی دے، اور جنت میں لے جا اور عذاب قبر سے بچا۔“ یہاں تک کہ میں نے آرزو کی کہ یہ مردہ میں ہوتا۔

صحیح مسلم حدیث ۲۲۳۲ کا خلاصہ

اس حدیث میں سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جنازہ پر نماز پڑھی، اور انہوں نے آپ کی دعا کے الفاظ یاد رکھے۔ اس دعا میں میت کے لیے مغفرت، رحمت، عافیت، معافی، اچھی میزبانی، قبر کی کشادگی، گناہوں سے صفائی، بہتر گھر، بہتر اہل، بہتر زوج، جنت میں داخلہ، اور عذاب قبر یا عذاب نار سے پناہ مانگی گئی۔ یہ نماز جنازہ کی دعا بہت جامع الفاظ پر مشتمل ہے۔ حدیث کا اثر بھی متن میں آیا ہے کہ سیدنا عوف رضی اللہ عنہ نے تمنا کی کہ کاش وہ میت میں ہوتا، یعنی دعا کے الفاظ ان پر بہت اثر انداز ہوئے۔ اس تشریح میں ہم اسی دعا کے الفاظ تک بات رکھتے ہیں، کوئی اضافی حکم شامل نہیں کرتے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نماز جنازہ میں میت کے لیے مغفرت اور رحمت کی دعا کی گئی۔
  • دعا میں قبر کی کشادگی اور گناہوں سے پاکی کا سوال ہے۔
  • صحابی رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کو یاد رکھا اور نقل کیا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں