حدیث ۲۲۵۶

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۲۵۶

وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ الْمُطَّلِبِ ، أَنَّهُ سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ قَيْسٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ عَائِشَةَ تُحَدِّثُ ، فَقَالَتْ : أَلَا أُحَدِّثُكُمْ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَنِّي ؟ ، قُلْنَا : بَلَى . ح وحَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ حَجَّاجًا الْأَعْوَرَ ، وَاللَّفْظُ لَهُ قَالَ : حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسِ بْنِ مَخْرَمَةَ بْنِ الْمُطَّلِبِ ، أَنَّهُ قَالَ يَوْمًا : أَلَا أُحَدِّثُكُمْ عَنِّي وَعَنْ أُمِّي ؟ ، قَالَ : فَظَنَنَّا أَنَّهُ يُرِيدُ أُمَّهُ الَّتِي وَلَدَتْهُ ، قَالَ : قَالَتْ عَائِشَةُ : أَلَا أُحَدِّثُكُمْ عَنِّي وَعَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ ، قُلْنَا : بَلَى ، قَالَ : قَالَتْ : لَمَّا كَانَتْ لَيْلَتِي الَّتِي كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا عِنْدِي ، انْقَلَبَ فَوَضَعَ رِدَاءَهُ ، وَخَلَعَ نَعْلَيْهِ فَوَضَعَهُمَا عِنْدَ رِجْلَيْهِ ، وَبَسَطَ طَرَفَ إِزَارِهِ عَلَى فِرَاشِهِ ، فَاضْطَجَعَ فَلَمْ يَلْبَثْ إِلَّا رَيْثَمَا ظَنَّ أَنْ قَدْ رَقَدْتُ ، فَأَخَذَ رِدَاءَهُ رُوَيْدًا وَانْتَعَلَ رُوَيْدًا ، وَفَتَحَ الْبَابَ فَخَرَجَ ثُمَّ أَجَافَهُ رُوَيْدًا ، فَجَعَلْتُ دِرْعِي فِي رَأْسِي وَاخْتَمَرْتُ ، وَتَقَنَّعْتُ إِزَارِي ثُمَّ انْطَلَقْتُ عَلَى إِثْرِهِ ، حَتَّى جَاءَ الْبَقِيعَ فَقَامَ ، فَأَطَالَ الْقِيَامَ ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ انْحَرَفَ فَانْحَرَفْتُ فَأَسْرَعَ فَأَسْرَعْتُ ، فَهَرْوَلَ فَهَرْوَلْتُ ، فَأَحْضَرَ فَأَحْضَرْتُ فَسَبَقْتُهُ ، فَدَخَلْتُ فَلَيْسَ إِلَّا أَنِ اضْطَجَعْتُ فَدَخَلَ ، فَقَالَ : مَا لَكِ يَا عَائِشُ حَشْيَا رَابِيَةً ؟ " قَالَتْ : قُلْتُ : لَا شَيْءَ ، قَالَ : " لَتُخْبِرِينِي أَوْ لَيُخْبِرَنِّي اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ ، قَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي فَأَخْبَرْتُهُ ، قَالَ : فَأَنْتِ السَّوَادُ الَّذِي رَأَيْتُ أَمَامِي ، قُلْتُ : نَعَمْ فَلَهَدَنِي فِي صَدْرِي لَهْدَةً أَوْجَعَتْنِي ، ثُمَّ قَالَ : أَظَنَنْتِ أَنْ يَحِيفَ اللَّهُ عَلَيْكِ وَرَسُولُهُ " ، قَالَتْ : مَهْمَا يَكْتُمِ النَّاسُ يَعْلَمْهُ اللَّهُ نَعَمْ ، قَالَ : فَإِنَّ جِبْرِيلَ أَتَانِي حِينَ رَأَيْتِ فَنَادَانِي ، فَأَخْفَاهُ مِنْكِ فَأَجَبْتُهُ فَأَخْفَيْتُهُ مِنْكِ ، وَلَمْ يَكُنْ يَدْخُلُ عَلَيْكِ ، وَقَدْ وَضَعْتِ ثِيَابَكِ ، وَظَنَنْتُ أَنْ قَدْ رَقَدْتِ فَكَرِهْتُ أَنْ أُوقِظَكِ ، وَخَشِيتُ أَنْ تَسْتَوْحِشِي ، فَقَالَ : إِنَّ رَبَّكَ يَأْمُرُكَ أَنْ تَأْتِيَ أَهْلَ الْبَقِيعِ فَتَسْتَغْفِرَ لَهُمْ ، قَالَتْ : قُلْتُ : كَيْفَ أَقُولُ لَهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ ، قَالَ : قُولِي السَّلَامُ عَلَى أَهْلِ الدِّيَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ ، وَيَرْحَمُ اللَّهُ الْمُسْتَقْدِمِينَ مِنَّا ، وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لَلَاحِقُونَ " .

‏‏‏‏ محمد بن قیس نے ایک دن کہا کہ کیا میں تم کو اپنی بیتی اور اپنی ماں کی بیتی سناؤں۔ اور ہم نے یہ خیال کیا کہ شاید ماں سے وہ مراد ہیں جنہوں نے ان کو جنا ہے۔ پھر انہوں نے کہا کہ فرمایا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ میں تم کو اپنی بیتی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیتی سناؤں؟ ہم نے کہا: ضرور۔ فرمایا: ایک رات نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کروٹ لی اور اپنی چادر لی اور جوتے نکال کر اپنے پاؤں کے آگے رکھے اور چادر کا کنارہ اپنے بچھونے پر بچھایا، لیٹ رہے اور تھوڑی دیر اس خیال سے ٹھہرے رہے کہ گمان کر لیا کہ میں سو گئی۔ پھر آہستہ سے اپنی چادر لی اور آہستہ سے جوتے پہنے اور آہستہ سے دروازہ کھولا اور آہستہ سے نکلے اور پھر آہستہ سے اس کو بند کر دیا۔ اور میں نے بھی اپنی چادر لی اور سر پر اوڑھی اور گھونگٹ مارا تہبند پہنا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چلی یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بقیع پہنچے اور دیر تک کھڑے رہے۔ پھر دونوں ہاتھ اٹھائے تین بار۔ پھر لوٹے اور میں بھی لوٹی اور جلدی چلے اور میں بھی جلدی چلی۔ اور دوڑے اور میں بھی دوڑی۔ اور گھر آ گئے اور میں بھی گھر آ گئی مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے آگے آئی اور گھر میں آتے ہی لیٹ رہی۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب گھر میں آئے تو فرمایا: ”اے عائشہ! کیا ہوا تم کو کہ سانس پھول رہا ہے اور پیٹ پھولا ہوا ہے؟“ میں نے عرض کیا کچھ نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہ تم بتا دو، نہیں تو وہ باریک بین خبردار (یعنی اللہ تعالیٰ) مجھ کو خبر کر دے گا۔“ میں نے عرض کیا کہ میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کالا کالا میرے آگے نظر آتا تھا وہ تم ہی تھیں؟“ میں نے کہا: جی ہاں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سینے پر گھونسا مارا (یہ محبت سے تھا) کہ مجھے درد ہوا اور فرمایا: ”تو نے خیال کیا کہ اللہ اور اس کا رسول تیرا حق دبا لے گا۔ (یعنی تمھاری باری میں اور کسی بی بی کے پاس چلا جاؤں گا) تب میں نے کہا: جب لوگ کوئی چیز چھپاتے تو ہاں اللہ اس کو جانتا ہے (یعنی اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے کسی بی بی کے پاس جاتے بھی تو بھی اللہ دیکھتا تھا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس جبرئیل علیہ السلام آئے۔ جب تو نے دیکھا انہوں نے مجھے پکارا اور تم سے چھپایا تو میں نے بھی چاہا تم سے چھپاؤں۔ اور وہ تمہارے پاس نہیں آتے تھے کہ تم نے اپنا کپڑا اتار دیا تھا اور میں سمجھا کہ تم سو گئیں۔ تو میں نے برا جانا کہ تم کو جگاؤں اور یہ بھی خوف کیا کہ تم گھبراؤ گی کہ کہاں چلے گئے۔ پھر جبرئیل علیہ السلام نے کہا کہ تمہارا پروردگار حکم فرماتا ہے کہ تم بقیع کو جاؤ اور ان کے لئے مغفرت مانگو۔“ میں نے عرض کیا کہ میں کیو نکر کہوں اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہو سلام ہے ایماندار گھر والوں پر، اور مسلمانوں پر اللہ رحمت کرے ہم سے آگے جانے والوں پر اور پیچھے جانے والوں پر اور ہم، اللہ نے چاہا تو تم سے ملنے والے ہیں۔“

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں