حدیث ۲۳۲۹
صحیح مسلم : ۲۳۲۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۳۲۹
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ الضُّبَعِيُّ ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا وَاصِلٌ مَوْلَى أَبِي عُيَيْنَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُقَيْلٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، أَنَّ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالُوا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ذَهَبَ أَهْلُ الدُّثُورِ بِالْأُجُورِ ، يُصَلُّونَ كَمَا نُصَلِّي ، وَيَصُومُونَ كَمَا نَصُومُ ، وَيَتَصَدَّقُونَ بِفُضُولِ أَمْوَالِهِمْ ، قَالَ : " أَوَ لَيْسَ قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لَكُمْ مَا تَصَّدَّقُونَ ، إِنَّ بِكُلِّ تَسْبِيحَةٍ صَدَقَةً ، وَكُلِّ تَكْبِيرَةٍ صَدَقَةً ، وَكُلِّ تَحْمِيدَةٍ صَدَقَةً ، وَكُلِّ تَهْلِيلَةٍ صَدَقَةً ، وَأَمْرٌ بِالْمَعْرُوفِ صَدَقَةٌ ، وَنَهْيٌ عَنْ مُنْكَرٍ صَدَقَةٌ ، وَفِي بُضْعِ أَحَدِكُمْ صَدَقَةٌ ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيَأتِي أَحَدُنَا شَهْوَتَهُ ، وَيَكُونُ لَهُ فِيهَا أَجْرٌ ؟ ، قَالَ : أَرَأَيْتُمْ لَوْ وَضَعَهَا فِي حَرَامٍ أَكَانَ عَلَيْهِ فِيهَا وِزْرٌ ، فَكَذَلِكَ إِذَا وَضَعَهَا فِي الْحَلَالِ كَانَ لَهُ أَجْرٌ " .
ابوالاسود دیلی سے روایت ہے کہ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ چند اصحاب رضی اللہ عنہم، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کی اے اللہ کے رسول! مال والے سب مال لوٹ لے گئے، اس لیے کہ وہ نماز پڑھتے ہیں جیسے ہم پڑھتے ہیں اور روزہ رکھتے ہیں جیسے ہم روزہ رکھتے ہیں اور صدقہ دیتے ہیں اپنے زائد مالوں سے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے لیے بھی تو اللہ تعالیٰ نے صدقہ کا سامان کر دیا ہے کہ ہر تسبیح صدقہ ہے اور ہر تکبیر صدقہ ہے اور ہر تحمید صدقہ ہے اور ہر بار لا الہ الااللہ کہنا صدقہ ہے اور اچھی بات سکھانا صدقہ ہے اور بری بات سے روکنا صدقہ ہے اور ہر شخص کے بدن کے ٹکڑے میں صدقہ ہے۔“لوگوں نے عرض کی کہ یا رسول اللہ! ہم میں سے کوئی شخص اپنے بدن سے اپنی شہوت نکالتا ہے (یعنی اپنی بی بی سے صحبت کرتا ہے) تو کیا اس میں ثواب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیوں نہیں دیکھو تو اگر اسے حرام میں صرف کر لے تو وبال ہوا کہ نہیں؟ اسی طرح جب حلال میں صرف کرتا ہے تو ثواب ہوتا ہے۔“
