حدیث ۲۴۶۸
صحیح مسلم : ۲۴۶۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۴۶۸
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَيُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، قَالَا : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّ الْحَرُورِيَّةَ لَمَّا خَرَجَتْ وَهُوَ مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالُوا : لَا حُكْمَ إِلَّا لِلَّهِ ، قَالَ عَلِيٌّ : كَلِمَةُ حَقٍّ أُرِيدَ بِهَا بَاطِلٌ ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَفَ نَاسًا إِنِّي لَأَعْرِفُ صِفَتَهُمْ فِي هَؤُلَاءِ ، يَقُولُونَ الْحَقَّ بِأَلْسِنَتِهِمْ لَا يَجُوزُ هَذَا مِنْهُمْ ، وَأَشَارَ إِلَى حَلْقِهِ مِنْ أَبْغَضِ خَلْقِ اللَّهِ إِلَيْهِ ، مِنْهُمْ أَسْوَدُ إِحْدَى يَدَيْهِ طُبْيُ شَاةٍ أَوْ حَلَمَةُ ثَدْيٍ ، فَلَمَّا قَتَلَهُمْ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : انْظُرُوا فَنَظَرُوا ، فَلَمْ يَجِدُوا شَيْئًا ، فَقَالَ : ارْجِعُوا فَوَاللَّهِ مَا كَذَبْتُ وَلَا كُذِبْتُ ، مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا ، ثُمَّ وَجَدُوهُ فِي خَرِبَةٍ ، فَأَتَوْا بِهِ حَتَّى وَضَعُوهُ بَيْنَ يَدَيْهِ ، قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ : وَأَنَا حَاضِرُ ذَلِكَ مِنْ أَمْرِهِمْ ، وَقَوْلِ عَلِيٍّ فِيهِمْ ، زَادَ يُونُسُ فِي رِوَايَتِهِ ، قَالَ بُكَيْرٌ : وَحَدَّثَنِي رَجُلٌ ، عَنْ ابْنِ حُنَيْنٍ ، أَنَّهُ قَالَ : رَأَيْتُ ذَلِكَ الْأَسْوَدَ .
سیدنا عبیداللہ رضی اللہ عنہ جو مولیٰ ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ان سے روایت ہے کہ حروریہ جب نکلے اور جب وہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے تو حروریہ نے کہا «لَا حُكْمَ إِلَّا لِلَّه» یعنی حکم نہیں کسی کا سوا اللہ کے تو سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ کلمہ ایسا ہے کہ حق ہے مگر ارادہ ان کا اس سے باطل ہے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا تھا ان لوگوں کا کہ ”میں ان کا حال بخوبی جانتا ہوں اور ان کی نشانیاں ان لوگوں میں پائی جاتی ہیں اور وہ اپنی زبانوں سے حق کہتے ہیں مگر وہ اس سے تجاوز نہیں کرتا ہے۔ اور اشارہ کیا اپنے حلق کی طرف (یعنی حق بات حلق سے نیچے نہیں اترتی) اور اللہ کی مخلوق میں بڑے دشمن اللہ کے یہی ہیں ان میں ایک شخص اسود ہے کہ ایک ہاتھ اس کا ایسا ہے کہ جیسے چوچے بکری كے یا سر پستان۔“ فرمایا پھر جب قتل کیا ان کو سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے تو فرمایا: دیکھو، پھر دیکھا تو وہ نہ ملا، پھر فرمایا انہوں نے کہ پھر جاؤ سو قسم ہے اللہ پاک کی کہ میں نے جھوٹ نہیں کہا اور نہ مجھ سے جھوٹ کہا گیا ہے (یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے جھوٹ نہیں فرمایا نہ میں نے تم سے جھوٹ کہا) دو بار یا تین بار یہی کہا، پھر پایا اس کو ایک کھنڈر میں اور لائے اس کو یہاں تک کہ رکھ دیا لاشہ اس کا سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے آگے اور عبیداللہ نے کہا کہ میں حاضر تھا اس جگہ جب انہوں نے یہ کام کیا اور سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے ان کے حق میں یہ فرمایا اور یونس کی روایت میں اتنی بات زیادہ ہے کہ بکیر نے کہا اور روایت کی مجھ سے ایک شخص نے ابن حنین سے کہ انہوں نے کہا کہ میں نے دیکھا ہے اسود کو۔
