حدیث ۲۵۷۰
صحیح مسلم : ۲۵۷۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۵۷۰
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي رَمَضَانَ فَجِئْتُ ، فَقُمْتُ إِلَى جَنْبِهِ ، وَجَاءَ رَجُلٌ آخَرُ فَقَامَ أَيْضًا ، حَتَّى كُنَّا رَهْطًا ، فَلَمَّا حَسَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّا خَلْفَهُ ، جَعَلَ يَتَجَوَّزُ فِي الصَّلَاةِ ، ثُمَّ دَخَلَ رَحْلَهُ فَصَلَّى صَلَاةً لَا يُصَلِّيهَا عِنْدَنَا ، قَالَ : قُلْنَا لَهُ حِينَ أَصْبَحْنَا : أَفَطَنْتَ لَنَا اللَّيْلَةَ ؟ ، قَالَ : فَقَالَ : " نَعَمْ ذَاكَ الَّذِي حَمَلَنِي عَلَى الَّذِي صَنَعْتُ " ، قَالَ : فَأَخَذَ يُوَاصِلُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَذَاكَ فِي آخِرِ الشَّهْرِ ، فَأَخَذَ رِجَالٌ مِنْ أَصْحَابِهِ يُوَاصِلُونَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا بَالُ رِجَالٍ يُوَاصِلُونَ ، إِنَّكُمْ لَسْتُمْ مِثْلِي ، أَمَا وَاللَّهِ لَوْ تَمَادَّ لِي الشَّهْرُ ، لَوَاصَلْتُ وِصَالا يَدَعُ الْمُتَعَمِّقُونَ تَعَمُّقَهُمْ " .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں نماز پڑھتے تھے (یعنی رات کو) سو میں آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو پر کھڑا ہو گیا اور دوسرا شخص آیا وہ بھی کھڑا ہو گیا یہاں تک کہ ایک جماعت جمع ہو گئی (یعنی دس سے کم) پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری سن گن پائی تو نماز ہلکی پڑھنے لگے (سبحان اللہ کیا شفقت تھی امت پر)، پھر اپنے گھر تشریف لے گئے اور ایسی نماز پڑھی (یعنی بہت لمبی) کہ ہمارے ساتھ نہ پڑھتے تھے، پھر ہم نے صبح کو ذکر کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا خبر ہو گئی تھی رات کو ہماری اقتداء کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں اسی سبب سے تو میں نے کیا جو کچھ کیا۔“ (یعنی نماز ہلکی کی) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم وصال کرنے لگے اور وہ دن آخر ماہ کے تھے تو اور لوگ بھی وصال کرنے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا حال ہے لوگوں کا کہ وصال کرتے ہیں، تم میری مثل نہیں ہو، اللہ کی قسم! اگر مہینہ زیادہ ہوتا تو میں ایسا وصال کرتا کہ زیادتی کرنے والے اپنی زیادتی چھوڑ دیتے۔“
