حدیث ۲۶۴۸
صحیح مسلم : ۲۶۴۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۶۴۸
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ جَمِيعًا ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عُمَارَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ : دَخَلَ الْأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ يَتَغَدَّى ، فَقَالَ يَا أَبَا مُحَمَّدٍ ادْنُ إِلَى الْغَدَاءِ ، فَقَالَ : أَوَلَيْسَ الْيَوْمُ يَوْمَ عَاشُورَاءَ ؟ ، قَالَ : وَهَلْ تَدْرِي مَا يَوْمُ عَاشُورَاءَ ؟ ، قَالَ : وَمَا هُوَ ؟ ، قَالَ : " إِنَّمَا هُوَ يَوْمٌ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُهُ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ شَهْرُ رَمَضَانَ ، فَلَمَّا نَزَلَ شَهْرُ رَمَضَانَ تُرِكَ " ، وقَالَ أَبُو كُرَيْبٍ : " تَرَكَهُ " ،
عبدالرحمٰن بن یزید نے کہا: اشعث بن قیس، عبداللہ کے پاس آئے اور وہ ناشتہ کرتے تھے صبح کو تو کہا انہوں نے کہ اے ابومحمد! آؤ ناشتہ کرو تو انہوں نے کہا کہ آج عاشورے کا دن نہیں ہے؟ تو عبداللہ نے کہا کہ تم جانتے ہو عاشورے کا دن کیسا ہے؟ تو اشعث نے کہا: وہ کیسا دن ہے؟ تو عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس دن روزہ رکھتے قبل رمضان فرض ہونے کے پھر جب رمضان کی فرضیت اتری تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ چھوڑ دیا اور ابوکریب کی روایت میں ہے کہ اس کو چھوڑ دیا۔
