حدیث ۲۷۳۱
صحیح مسلم : ۲۷۳۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۷۳۱
وَحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ : بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَزَادَ فِيهِ بَعْدَ قَوْلِهِ " مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فَإِنَّ لَكَ بِكُلِّ حَسَنَةٍ عَشْرَ أَمْثَالِهَا فَذَلِكَ الدَّهْرُ كُلُّهُ " ، وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ ، قُلْتُ : وَمَا صَوْمُ نَبِيِّ اللَّهِ دَاوُدَ ؟ ، قَالَ : " نِصْفُ الدَّهْرِ " ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِي الْحَدِيثِ مِنْ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ شَيْئًا وَلَمْ يَقُلْ : " وَإِنَّ لِزَوْرِكَ عَلَيْكَ حَقًّا " ، وَلَكِنْ قَالَ : " وَإِنَّ لِوَلَدِكَ عَلَيْكَ حَقًّا " .
یحییٰ سے اس اسناد سے بھی روایت مروی ہوئی اور اس میں تین دن کے روزوں کے بعد یہ بات زیادہ ہے کہ ”ہر نیکی دس گنا ہوتی ہے اور یہ ثواب میں ہمیشہ کا روزہ ہے۔“ اور حدیث میں یہ بھی ہے کہ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے عرض کی کہ داؤد علیہ السلام اللہ کے نبی کا روزہ کیا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب دنوں کا آدھا۔“ (یعنی وہی ایک دن روزہ ایک دن افطار) اور اس روایت میں قرأت قرآن مجید کا مطلق ذکر نہیں اور ملاقاتیوں کا حق بھی مذکور نہیں اور یہ ہے کہ ”تمہارے بچے کا تم پر حق ہے۔“
