صحیح مسلم حدیث ۲۷۶۹ - اعتکاف، طاق راتیں اور شب قدر کی تلاش

اعتکاف اور شب قدر: آخری عشرے کی طاق راتیں

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۷۶۹

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا بَكْرٌ وَهُوَ ابْنُ مُضَرَ ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُجَاوِرُ فِي الْعَشْرِ الَّتِي فِي وَسَطِ الشَّهْرِ ، فَإِذَا كَانَ مِنْ حِينِ تَمْضِي عِشْرُونَ لَيْلَةً ، وَيَسْتَقْبِلُ إِحْدَى وَعِشْرِينَ ، يَرْجِعُ إِلَى مَسْكَنِهِ ، وَرَجَعَ مَنْ كَانَ يُجَاوِرُ مَعَهُ ، ثُمَّ إِنَّهُ أَقَامَ فِي شَهْرٍ جَاوَرَ فِيهِ تِلْكَ اللَّيْلَةَ الَّتِي كَانَ يَرْجِعُ فِيهَا ، فَخَطَبَ النَّاسَ فَأَمَرَهُمْ بِمَا شَاءَ اللَّهُ ، ثُمَّ قَالَ : " إِنِّي كُنْتُ أُجَاوِرُ هَذِهِ الْعَشْرَ ، ثُمَّ بَدَا لِي أَنْ أُجَاوِرَ هَذِهِ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ ، فَمَنْ كَانَ اعْتَكَفَ مَعِي فَلْيَبِتْ فِي مُعْتَكَفِهِ ، وَقَدْ رَأَيْتُ هَذِهِ اللَّيْلَةَ فَأُنْسِيتُهَا ، فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ فِي كُلِّ وِتْرٍ ، وَقَدْ رَأَيْتُنِي أَسْجُدُ فِي مَاءٍ وَطِينٍ " ، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ : مُطِرْنَا لَيْلَةَ إِحْدَى وَعِشْرِينَ ، فَوَكَفَ الْمَسْجِدُ فِي مُصَلَّى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ وَقَدِ انْصَرَفَ مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ ، وَوَجْهُهُ مُبْتَلٌّ طِينًا وَمَاءً ،

ابو سعید خدری روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف کرتے تھے۔ مہینے کے بیچ کے دہے میں (یعنی رمضان کے) پھر جب بیس راتیں گزر جاتی تھیں رمضان کی اور اکیسویں آنے کو ہوتی تھی تو اپنے گھر لوٹ آتے تھے۔ اور جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ معتکف ہوتے تھے وہ بھی لوٹ آتے تھے پھر ایک ماہ میں اسی طرح اعتکاف کیا اور جس رات میں گھر آنے کو تھے خطبہ پڑھا اور لوگوں کو حکم کیا جو منظور الہٰی تھا پھر فرمایا: ”میں اس عشرہ میں اعتکاف کرتا تھا پھر مجھے مناسب معلوم ہوا کہ میں اس عشرہ اخیر میں بھی اعتکاف کروں سو جو میرے ساتھ اعتکاف کرنے والا ہو وہ رات کو اپنے معتکف ہی میں رہے (اور گھر نہ جائے) اور میں نے خواب میں اس شب قدر کو دیکھا مگر بھلا دیا گیا سو اسے اخر کی دس راتوں میں ڈھونڈھو ہر طاق رات میں اور میں اپنے کو خواب میں دیکھتا ہوں کہ سجدہ کر رہا ہوں پانی اور کیچڑ میں۔“یعنی اس رات کے آخر میں ایسا ہو گا یہ بات خواب کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یاد رہی) پھر سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اکیسویں شب کہ ہم پر مینہ برسا اور مسجد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مصلیٰ پر ٹپکی اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز سے سلام پھیرا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک چہرے میں کیچڑ اور پانی بھرا ہوا تھا۔

صحیح مسلم حدیث ۲۷۶۹ کا خلاصہ

یہ روایت شب قدر اور اعتکاف دونوں کو ساتھ بیان کرتی ہے۔ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بتاتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے درمیانی عشرے میں اعتکاف فرماتے تھے، پھر ایک موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو خطاب کیا اور فرمایا کہ میں اس عشرے میں اعتکاف کرتا تھا، پھر مجھے مناسب معلوم ہوا کہ آخری عشرے میں اعتکاف کروں۔ جو میرے ساتھ معتکف ہو وہ اپنے معتکف میں رہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شب قدر مجھے دکھائی گئی مگر بھلا دی گئی، لہٰذا اسے آخری دس راتوں کی ہر طاق رات میں تلاش کرو۔ اسی روایت میں پانی اور کیچڑ میں سجدے کی بات بھی آئی، اور اکیسویں رات بارش کے بعد یہ نشانی دیکھی گئی۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اعتکاف کو آخری عشرے تک جاری رکھنے کا ذکر ہے۔
  • شب قدر کو آخری دس راتوں کی طاق راتوں میں تلاش کرنے کا حکم آیا۔
  • پانی اور کیچڑ میں سجدے والی نشانی اسی روایت میں بیان ہوئی۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں