حدیث ۲۷۷۴
صحیح مسلم : ۲۷۷۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۷۷۴
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : اعْتَكَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَشْرَ الْأَوْسَطَ مِنْ رَمَضَانَ ، يَلْتَمِسُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ قَبْلَ أَنْ تُبَانَ لَهُ ، فَلَمَّا انْقَضَيْنَ أَمَرَ بِالْبِنَاءِ فَقُوِّضَ ، ثُمَّ أُبِينَتْ لَهُ أَنَّهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ ، فَأَمَرَ بِالْبِنَاءِ فَأُعِيدَ ، ثُمَّ خَرَجَ عَلَى النَّاسِ ، فَقَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّهَا كَانَتْ أُبِينَتْ لِي لَيْلَةُ الْقَدْرِ ، وَإِنِّي خَرَجْتُ لِأُخْبِرَكُمْ بِهَا ، فَجَاءَ رَجُلَانِ يَحْتَقَّانِ مَعَهُمَا الشَّيْطَانُ فَنُسِّيتُهَا ، فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ ، الْتَمِسُوهَا فِي التَّاسِعَةِ وَالسَّابِعَةِ وَالْخَامِسَةِ " ، قَالَ : قُلْتُ يَا أَبَا سَعِيدٍ : إِنَّكُمْ أَعْلَمُ بِالْعَدَدِ مِنَّا ، قَالَ : أَجَلْ ، نَحْنُ أَحَقُّ بِذَلِكَ مِنْكُمْ ، قَالَ : قُلْتُ : مَا التَّاسِعَةُ وَالسَّابِعَةُ وَالْخَامِسَةُ ، قَالَ : إِذَا مَضَتْ وَاحِدَةٌ وَعِشْرُونَ فَالَّتِي تَلِيهَا ثِنْتَيْنِ وَعِشْرِينَ وَهِيَ التَّاسِعَةُ ، فَإِذَا مَضَتْ ثَلَاثٌ وَعِشْرُونَ فَالَّتِي تَلِيهَا السَّابِعَةُ ، فَإِذَا مَضَى خَمْسٌ وَعِشْرُونَ فَالَّتِي تَلِيهَا الْخَامِسَةُ ، وَقَالَ ابْنُ خَلَّادٍ : مَكَانَ يَحْتَقَّانِ يَخْتَصِمَانِ .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اعتکاف کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیچ کے عشرہ میں رمضان کے، ڈھونڈتے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم شب قدر کو قبل اس کے کہ ظاہر ہو شب قدر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پھر جب عشرہ اوسط کی راتیں گزر گئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیمہ کھول ڈالنے کا حکم فرمایا: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا کہ وہ اخیر عشرہ میں ہے اور حکم کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیمہ کا کہ پھر لگایا گیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور فرمایا: ”اے لوگو! مجھے شب قدر معلوم ہوئی تھی اور میں نکلا تھا کہ تم خبر دوں پھر دو شخص آپس میں جھگرتے ہوئے آئے اور ان کے ساتھ شیطان بھی تھا پھر میں بھول گیا تو اس کو تلاش کرو تم عشرہ اخیر میں رمضان کے اور ڈھونڈو اس کو نویں اور ساتویں اور پانچویں راتوں میں۔“ راوی نے کہا کہ میں نے ابوسعید سے کہا کہ تم گنتی زیادہ جانتے ہو ہم لوگوں سے تو انہوں نے کہا کہ ہاں ہم اس کے زیادہ مستحق ہیں بہ نسبت تمہارے، پھر میں نے پوچھا: نویں، ساتویں، پانچویں سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے فرمایا: جب اکیسویں گزر جائے تو اس کے بعد جو آئے بائیسویں وہی بائیسویں رات مراد ہے نویں سے اور جب تئیسویں گزر جائے تو اس کے بعد جو رات آئے یعنی چوبیسویں وہی ساتویں سے مراد ہے اور جب پچیسویں گزر جائے تو اس کے بعد جو رات آئے یعنی چھبیسویں وہی مراد ہے پانچویں سے اور خلاد نے «يَحْتَقَّانِ» کی جگہ «يَخْتَصِمَانِ» کہا۔
