حدیث ۲۷۷۷

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۷۷۷

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ كِلَاهُمَا ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، قَالَ ابْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَبْدَةَ ، وَعَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ ، سمعا زر بن حبيش ، يَقُولُ : سَأَلْتُ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَقُلْتُ : إِنَّ أَخَاكَ ابْنَ مَسْعُودٍ ، يَقُولُ : مَنْ يَقُمْ الْحَوْلَ يُصِبْ لَيْلَةَ الْقَدْرِ ، فَقَالَ : " رَحِمَهُ اللَّهُ أَرَادَ أَنْ لَا يَتَّكِلَ النَّاسُ أَمَا إِنَّهُ قَدْ عَلِمَ أَنَّهَا فِي رَمَضَانَ ، وَأَنَّهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ ، وَأَنَّهَا لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ ، ثُمَّ حَلَفَ لَا يَسْتَثْنِي أَنَّهَا لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ " ، فَقُلْتُ : بِأَيِّ شَيْءٍ تَقُولُ ذَلِكَ يَا أَبَا الْمُنْذِرِ ؟ ، قَالَ : " بِالْعَلَامَةِ أَوْ بِالْآيَةِ الَّتِي أَخْبَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهَا تَطْلُعُ يَوْمَئِذٍ لَا شُعَاعَ لَهَا " .

‏‏‏‏ زر بن حبیش کہتے تھے کہ میں نے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ تمہارے بھائی سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ تو کہتے ہیں جو سال بھر برابر جاگے وہ شب قدر پائے تو انہوں نے کہا: اللہ رحمت کرے ان پر اس کہنے سے ان کی غرض یہ تھی کہ لوگ ایک ہی رات پر بھروسہ نہ کر رہیں (بلکہ ہمیشہ عبادت میں مشغول رہیں) اور وہ خوب جانتے تھے کہ وہ رمضان میں ہے اور وہ عشرہ اخیر میں ہے وہ ستائیسویں شب ہے پھر وہ اس پر قسم کھاتے تھے اور ان شاء اللہ بھی نہ کہتے تھے (یعنی ایسا اپنی قسم پر یقین تھا) اور کہتے تھے کہ وہ ستائیسویں شب ہے تو میں نے ان سے کہا کہ تم اے ابومنذر! کیوں یہ دعویٰ کرتے ہو؟ انہوں کہا کہ ایک نشانی یا علامت کی وجہ سے جس کی خبر دی ہے ہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور وہ یہ ہے کہ”اس کی صبح کو آفتاب جو نکلتا ہے تو اس میں شعاع نہیں ہوتی۔“ (مگر یہ علامت بعد زوال شب کے ظاہر ہوتی ہے)۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں