حدیث ۲۸۴۲
صحیح مسلم : ۲۸۴۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۸۴۲
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَأَبُو كَامِلٍ جَمِيعًا ، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ ، قَالَ سَعِيدٌ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ الرَّجُلِ يَتَطَيَّبُ ، ثُمَّ يُصْبِحُ مُحْرِمًا ، فَقَالَ : مَا أُحِبُّ أَنْ أُصْبِحَ مُحْرِمًا أَنْضَخُ طِيبًا ، لَأَنْ أَطَّلِيَ بِقَطِرَانٍ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَفْعَلَ ذَلِكَ ، فَدَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، فَأَخْبَرْتُهَا أَنَّ ابْنَ عُمَرَ ، قَالَ : مَا أُحِبُّ أَنْ أُصْبِحَ مُحْرِمًا أَنْضَخُ طِيبًا لَأَنْ أَطَّلِيَ بِقَطِرَانٍ ، أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَفْعَلَ ذَلِكَ ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ : " أَنَا طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ إِحْرَامِهِ ، ثُمَّ طَافَ فِي نِسَائِهِ ، ثُمَّ أَصْبَحَ مُحْرِمًا " .
محمد منتشر کے بیٹے نے کہا: میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ جو شخص خوشبو لگائے اور صبح کو احرام باندے تو اس کے لیے کیا حکم ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ میں خوب نہیں جانتا کہ صبح کو احرام باندھوں ایسے حال میں کہ خوشبو جھاڑتا ہوں اور اگر میں ڈانبر اپنے اوپر مل لوں تو مجھے اس سے بہتر معلوم ہوتا ہے کہ میں خوشبو لگاؤں پھر میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا اور ان سے یہ سب کہا تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”میں نے خوشبو لگائی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے احرام کے قریب اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سب بیبیوں سے صحبت کی پھر صبح احرام باندھا۔
