حدیث ۲۹۵۴
صحیح مسلم : ۲۹۵۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۹۵۴
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " كَانَ قُرَيْشٌ وَمَنْ دَانَ دِينَهَا يَقِفُونَ بِالْمُزْدَلِفَةِ ، وَكَانُوا يُسَمَّوْنَ الْحُمْسَ ، وَكَانَ سَائِرُ الْعَرَبِ يَقِفُونَ بِعَرَفَةَ ، فَلَمَّا جَاءَ الْإِسْلَامُ ، أَمَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ نَبِيَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَأْتِيَ عَرَفَاتٍ فَيَقِفَ بِهَا ، ثُمَّ يُفِيضَ مِنْهَا ، فَذَلِكَ قَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ : ثُمَّ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ سورة البقرة آية 199 " .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ قریش اور جو لوگ ان کی چال پر تھے مزدلفہ میں وقوف کرتے تھے اور اپنے کو حمس نام رکھتے تھے (ابوالہثیم نے کہا کہ یہ نام ہے قریش کا اور ان کی اولاد کا اور کنانہ اور جدیلہ قیس کا اس لیے کہ حمس رکھتے تھے اپنے دین میں یعنی تشدد اور سختی کرتے تھے) اور باقی عرب کے لوگ عرفہ میں وقوف کرتے تھے جب اسلام آیا اللہ پاک نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم فرمایا کہ عرفات میں آئیں اور وقوف فرمائیں اور وہیں سے لوٹیں اور یہی مطلب ہے اس آیت کا «ثُمَّ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ» یعنی ”لوٹو وہیں سے جہاں سے اور لوگ لوٹتے ہیں۔“
