صحیح مسلم حدیث ۲۹۶۱ - حج تمتع کے بارے میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا موقف
حج تمتع کی حدیث: سنت، فتویٰ اور احتیاطی رائے
صحیح مسلم : ۲۹۶۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۹۶۱
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي مُوسَى ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، أَنَّهُ كَانَ يُفْتِي بِالْمُتْعَةِ ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ : رُوَيْدَكَ بِبَعْضِ فُتْيَاكَ ، فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ فِي النُّسُكِ بَعْدُ ، حَتَّى لَقِيَهُ بَعْدُ فَسَأَلَهُ ، فَقَالَ عُمَرُ : " قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ فَعَلَهُ وَأَصْحَابُهُ ، وَلَكِنْ كَرِهْتُ أَنْ يَظَلُّوا مُعْرِسِينَ بِهِنَّ فِي الْأَرَاكِ ، ثُمَّ يَرُوحُونَ فِي الْحَجِّ تَقْطُرُ رُءُوسُهُمْ " .
ابوموسیٰ روایت:
سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ فتویٰ دیتے تھے متعہ کا (جیسا اوپر گزرا کہ حج کو عمرہ کر کے فسخ کر ڈالنا اور پھر یوم الترویہ میں حج کا احرام باندھنا) تو ایک شخص نے کہا: تم اپنے بعض فتوے کو روک رکھو اس لیے کہ تم کو معلوم نہیں کہ امیر المؤمنین نے کون سی نئی بات نکالی نسک میں۔ پھر وہ ملے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے اور ان سے پوچھا۔انہوں نے کہا کہ تم جانتے ہو کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے متعہ کیا اور ان کے اصحاب نے ایام حج میں مطلق عمرہ بجا لانے کو اور پھر اس سال حج کرنے کو بھی متعہ کہتے ہیں۔ مگر میں جو منع کرتا ہوں تو اس لیے کہ مجھے برا معلوم ہوتا ہے کہ ہم لوگ عورتوں کے ساتھ شب باشی پیلو کے درختوں میں کریں۔ پھر حج کو جائیں کہ ان کے سر سے پانی ٹپکتا ہو (اور اس حال میں عرفات کو جائیں)۔
صحیح مسلم حدیث ۲۹۶۱ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع حج تمتع ہے۔ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ حج تمتع کے جواز کا فتویٰ دیتے تھے۔ ایک شخص نے انہیں یاد دلایا کہ امیر المؤمنین نے نسک کے بارے میں کوئی نئی بات کہی ہے، اس لیے پہلے معلوم کر لیا جائے۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا۔ انہوں نے صاف کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ عمل کیا اور صحابہ نے بھی کیا۔ اس کے ساتھ انہوں نے اپنی ناپسندیدگی کی وجہ بھی بیان کی کہ لوگ بیویوں کے ساتھ رات گزار کر پھر حج کے لیے جائیں، حالانکہ ان کے سروں سے پانی ٹپک رہا ہو۔ اس روایت میں متعہ حج، حج تمتع کی حدیث اور عمرہ کے بعد حج کا مسئلہ بہت صاف انداز میں سامنے آتا ہے۔ متن سے معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی بات ایک انتظامی اور احتیاطی پہلو رکھتی تھی، اصل عمل کے ہونے کا انہوں نے خود اقرار کیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حج تمتع کا عمل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ سے ثابت طور پر ذکر ہوا۔
- فتویٰ دیتے وقت نئے حالات یا امیر کی رائے معلوم کر لینا احتیاط کا راستہ ہے۔
- اختلافی بات میں اصل دلیل اور وجہ دونوں کو سمجھنا چاہیے۔
- کسی رائے کو بیان کرتے وقت اس کی وجہ بھی واضح کر دینا بہتر ہے۔
