صحیح مسلم حدیث ۲۹۷۶ - وفات کے مرض میں بیان کردہ حدیث

وفات کے مرض میں نصیحت: حج اور عمرہ کو جمع کرنے کی حدیث

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۹۷۶

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، قَالَ : بَعَثَ إِلَيَّ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ فِي مَرَضِهِ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ ، فَقَالَ : " إِنِّي كُنْتُ مُحَدِّثَكَ بِأَحَادِيثَ لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَنْفَعَكَ بِهَا بَعْدِي ، فَإِنْ عِشْتُ فَاكْتُمْ عَنِّي ، وَإِنْ مُتُّ فَحَدِّثْ بِهَا إِنْ شِئْتَ ، إِنَّهُ قَدْ سُلِّمَ عَلَيَّ ، وَاعْلَمْ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ جَمَعَ بَيْنَ حَجٍّ وَعُمْرَةٍ ، ثُمَّ لَمْ يَنْزِلْ فِيهَا كِتَابُ اللَّهِ ، وَلَمْ يَنْهَ عَنْهَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ رَجُلٌ فِيهَا بِرَأْيِهِ مَا شَاءَ " .

عمران بن حصین روایت:

مطرف نے کہا: مجھے پیغام بھیج کر سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے بلا بھیجا اس بیماری میں جس ان کی وفات ہوئی تھی اور کہا: میں تم سے کئی حدیثیں بیان کرتا ہوں شاید اللہ تعالیٰ میرے بعد تم کو اس سے نفع دے پھر اگر میں جیتا رہا (یعنی اس مرض سے اچھا ہو کر) تو تم اس کو میرے نام سے بیان نہ کرنا اور پوشیدہ رکھنا اور اگر میں مر گیا تو چاہنا تو بیان کرنا۔ اول بات یہ ہے کہ مجھ پر سلام کیا گیا (یعنی فرشتوں کا) دوسرے یہ کہ میں خوب جانتا ہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حج اور عمرہ دونوں کو جمع کیا (یعنی ایام حج میں) اور پھر اس میں نہ تو قرآن اترا اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جمع سے منع فرمایا اور اس شخص نے جو چاہا سو اپنی رائے سے کہہ دیا (یعنی سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے)۔

صحیح مسلم حدیث ۲۹۷۶ کا خلاصہ

اس حدیث میں مطرف کہتے ہیں کہ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے انہیں اپنی اس بیماری میں بلایا جس میں ان کی وفات ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ میں تمہیں چند حدیثیں بیان کرتا ہوں، شاید اللہ میرے بعد تمہیں ان سے نفع دے۔ اگر میں زندہ رہوں تو انہیں میری طرف سے بیان نہ کرنا، اور اگر میں مر جاؤں تو چاہو تو بیان کرنا۔ پھر انہوں نے بتایا کہ مجھ پر سلام کیا گیا، اور یہ بھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج اور عمرہ کو جمع کیا۔ اس کے بعد نہ قرآن میں اس کے خلاف حکم اترا، نہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا، پھر ایک شخص نے اپنی رائے سے جو چاہا کہا۔ اس روایت میں حج تمتع، حج و عمرہ جمع کرنا، اور حدیث کو امانت کے ساتھ بیان کرنا تینوں پہلو موجود ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • سیدنا عمران رضی اللہ عنہ نے وفات کے مرض میں نفع بخش حدیثیں بیان کیں۔
  • انہوں نے حج اور عمرہ جمع کرنے کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب کیا۔
  • حدیث کے مطابق اس بارے میں قرآن یا نبوی ممانعت کا ذکر نہیں آیا۔
  • علم بیان کرنے میں وقت، امانت اور احتیاط کا پہلو موجود ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں