صحیح مسلم حدیث ۳۰۳۷ - رجب کے عمرہ پر وضاحت
رجب میں عمرہ کی روایت: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا جواب
صحیح مسلم : ۳۰۳۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۰۳۷
وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ : دَخَلْتُ أَنَا وَعُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ الْمَسْجِدَ ، فَإِذَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ جَالِسٌ إِلَى حُجْرَةِ عَائِشَةَ ، وَالنَّاسُ يُصَلُّونَ الضُّحَى فِي الْمَسْجِدِ ، فَسَأَلْنَاهُ عَنْ صَلَاتِهِمْ ، فَقَالَ : بِدْعَةٌ ، فَقَالَ لَهُ عُرْوَةُ : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ كَمِ اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ ، فَقَالَ : أَرْبَعَ عُمَرٍ إِحْدَاهُنَّ فِي رَجَبٍ ، فَكَرِهْنَا أَنْ نُكَذِّبَهُ وَنَرُدَّ عَلَيْهِ ، وَسَمِعْنَا اسْتِنَانَ عَائِشَةَ فِي الْحُجْرَةِ ، فَقَالَ عُرْوَةُ : أَلَا تَسْمَعِينَ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ إِلَى مَا يَقُولُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، فَقَالَتْ : وَمَا يَقُولُ ؟ ، قَالَ : يَقُولُ : اعْتَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَ عُمَرٍ إِحْدَاهُنَّ فِي رَجَبٍ ، فَقَالَتْ : يَرْحَمُ اللَّهُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَا اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِلَّا وَهُوَ مَعَهُ ، وَمَا اعْتَمَرَ فِي رَجَبٍ قَطُّ " .
مجاہد روایت:
میں اور عروہ دونوں مسجد نبوی میں گئے اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ کے پاس بیٹھے تھے اور لوگ مسجد میں نماز چاشت پڑھ رہے تھے، سو میں نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ یہ نماز کیسی ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ بدعت ہے (یعنی مسجد میں ادا کرنا اس کا اور اہتمام کرنا مثل صلوۃ مفروضہ کے بدعت ہے) پھر ان سے کہا عروہ نے اے ابوعبدالرحمٰن! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے عمرے کیے ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ چار، ایک ان میں سے رجب میں ہے سو ہم کو برا معلوم ہوا کہ ہم ان کی تکذیب کریں یا ان کو رد کر دیں اور مسواک کرنے کی آواز سنی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی کہ وہ حجرے میں تھیں۔سو عروہ نے کہا کہ آپ سنتی ہیں اے مؤمنوں کی ماں! جو ابوعبدالرحمٰن کہہ رہے ہیں؟ انہوں نے پوچھا کیا کہتے ہیں؟ اس نے کہا: وہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار عمرے کیے ہیں ایک رجب میں تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ رحمت کرے ابوعبدالرحمٰن پر، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی عمرہ ایسا نہیں کیا جو یہ ان کے ساتھ نہ ہوں اور رجب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی عمرہ نہیں کیا۔
صحیح مسلم حدیث ۳۰۳۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں مجاہد رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ وہ عروہ کے ساتھ مسجد نبوی میں گئے۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے کے پاس بیٹھے تھے۔ لوگوں کی چاشت کی نماز کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے اسے بدعت کہا۔ پھر عروہ نے پوچھا کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے کتنے عمرے کیے؟ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: چار، ان میں سے ایک رجب میں۔ عروہ اور مجاہد نے برا سمجھا کہ فوراً رد کریں، پھر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا۔ انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے کوئی عمرہ ایسا نہیں کیا جس میں ابن عمر رضی اللہ عنہما ساتھ نہ ہوں، اور آپ صلى الله عليه وسلم نے رجب میں کبھی عمرہ نہیں کیا۔ اس روایت میں علمی ادب، تصحیح، اور رجب میں عمرہ کے بارے میں صاف بیان موجود ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے رجب میں عمرہ کی بات کی تصحیح فرمائی۔
- عروہ اور مجاہد نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا احترام کرتے ہوئے فوراً رد نہیں کیا۔
- علمی اختلاف میں ادب کے ساتھ سوال کرنا چاہیے۔
- روایت کے مطابق رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے رجب میں عمرہ نہیں کیا۔
