صحیح مسلم حدیث ۳۰۵۵ - رمل اور سواری پر سعی کی وضاحت
رمل کیوں کیا گیا؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما کی وضاحت
صحیح مسلم : ۳۰۵۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۰۵۵
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، قَالَ : قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ : أَرَأَيْتَ هَذَا الرَّمَلَ بِالْبَيْتِ ثَلَاثَةَ أَطْوَافٍ وَمَشْيَ أَرْبَعَةِ أَطْوَافٍ أَسُنَّةٌ هُوَ ؟ فَإِنَّ قَوْمَكَ يَزْعُمُونَ أَنَّهُ سُنَّةٌ قَالَ : فَقَالَ : صَدَقُوا وَكَذَبُوا ، قَالَ : قُلْتُ : مَا قَوْلُكَ صَدَقُوا وَكَذَبُوا ؟ قَالَ : " إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِمَ مَكَّةَ ، فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ : إِنَّ مُحَمَّدًا ، وَأَصْحَابَهُ لَا يَسْتَطِيعُونَ أَنْ يَطُوفُوا بِالْبَيْتِ مِنَ الْهُزَالِ ، وَكَانُوا يَحْسُدُونَهُ ، قَالَ : " فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَرْمُلُوا ثَلَاثًا وَيَمْشُوا أَرْبَعًا " ، قَالَ : قُلْتُ لَهُ : أَخْبِرْنِي عَنِ الطَّوَافِ بَيْنَ الصَّفَا ، وَالْمَرْوَةِ رَاكِبًا أَسُنَّةٌ هُوَ ؟ فَإِنَّ قَوْمَكَ يَزْعُمُونَ أَنَّهُ سُنَّةٌ ، قَالَ : صَدَقُوا وَكَذَبُوا ، قَالَ : قُلْتُ : وَمَا قَوْلُكَ صَدَقُوا وَكَذَبُوا ؟ قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَثُرَ عَلَيْهِ النَّاسُ ، يَقُولُونَ : هَذَا مُحَمَّدٌ هَذَا مُحَمَّدٌ حَتَّى خَرَجَ الْعَوَاتِقُ مِنَ الْبُيُوتِ ، قَالَ : وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُضْرَبُ النَّاسُ بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَلَمَّا كَثُرَ عَلَيْهِ رَكِبَ ، وَالْمَشْيُ وَالسَّعْيُ أَفْضَلُ " ،
سیدنا ابوالطفیل رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا کہ مجھے خبر دو بیت اللہ کے طواف کی اور اس میں تین بار رمل کرنا اور چار بار چلنا سنت ہے؟ اس لئے کہ تمہارے لوگ کہتے ہیں کہ وہ سنت ہے تو انہوں نے کہا کہ وہ جھوٹے بھی ہیں سچے بھی۔ میں نے کہا: اس کا کیا مطلب؟ انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ میں تشریف لائے تو مشرکوں نے کہا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے یار بیت اللہ شریف کا طواف نہیں کر سکتے ضعف اور لاغری کے سبب سے اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے حسد رکھتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ تین بار رمل کریں اور چار بار عادت کے موافق چلیں (غرض یہ ہے کہ انہوں نے اس فعل کو جو سنت مؤکدہ مقصود سمجھا یہ ان کا جھوٹ تھا باقی بات سچ تھی) پھر میں نے کہا: ہم کو خبر دیجئیے صفا اور مروہ کے بیچ میں سعی کرنے کی سوار ہو کر کے وہ سنت ہے کہ آپ کے لوگ اسے سنت کہتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: وہ سچے بھی ہیں جھوٹے بھی۔ میں نے کہا: اس کا مطلب؟ انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ تشریف لائے تو لوگوں کی بھیڑ بھاڑ ایسی ہوئی کہ کنواری عورتیں تک باہر نکل آئیں اور لوگ کہنے لگے کہ یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خوش خلقی ایسی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے لوگ مارے نہ جاتے تھے (یعنی ہٹو، بچو، بغل ہو، چلو جیسے امرائے دنیا کے واسطے ہوتی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے نہ ہوتی تھی) پھر جب لوگوں کی بڑی بھیڑ ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہو گئے اور پیدل سعی کرنا افضل ہے (یعنی اتنا جھوٹ ہوا کہ جو چیز بضرورت ہوتی تھی اس کو بلاضرورت سنت کہا باقی سچ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سعی سوار ہو کر کی ہے)۔
صحیح مسلم حدیث ۳۰۵۵ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع طواف میں رمل اور صفا مروہ کی سعی ہے۔ ابوالطفیل رضی اللہ عنہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ بیت اللہ کے طواف میں تین بار رمل اور چار بار چلنا سنت ہے؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ لوگ سچے بھی ہیں اور غلط بھی۔ پھر انہوں نے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ تشریف لائے تو مشرکوں نے کہا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ساتھی کمزوری کی وجہ سے طواف نہیں کر سکتے۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو تین چکر رمل اور چار چکر عام چال کا حکم دیا۔ اسی روایت میں سواری پر سعی کا سبب بھی بتایا گیا کہ لوگوں کی بھیڑ زیادہ ہو گئی تھی، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے لوگوں کو مار کر ہٹایا نہیں جاتا تھا، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہو گئے۔ روایت کے آخر میں پیدل چلنے اور سعی کو افضل کہا گیا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رمل کے بارے میں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے سبب بیان کیا۔
- سواری پر سعی کا ذکر لوگوں کے ہجوم کے سبب کے ساتھ آیا ہے۔
- نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لوگوں کو دھکے دے کر نہیں ہٹایا جاتا تھا۔
