حدیث ۳۱۴۳
صحیح مسلم : ۳۱۴۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۱۴۳
وَحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ وَهُوَ ابْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْجَزَرِيُّ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الِاسْتِجْمَارُ تَوٌّ ، وَرَمْيُ الْجِمَارِ تَوٌّ ، وَالسَّعْيُ بَيْنَ الصَّفَا ، وَالْمَرْوَةِ تَوٌّ ، وَالطَّوَافُ تَوٌّ ، وَإِذَا اسْتَجْمَرَ أَحَدُكُمْ فَلْيَسْتَجْمِرْ بِتَوٍّ " .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ڈھیلے لینا استنجا کے طاق ہیں اور کنکریاں جمرہ کی طاق ہیں اور سعی صفا اور مروہ کی طاق ہے اور طواف کعبہ کا طاق ہے (یعنی یہ تینوں سات سات ہیں) اور اسی لیے ضروری ہے کہ جو لے ڈھیلے استنجا کے لیے تو طاق لے (یعنی تین یا پانچ جس میں طہارت خوب ہو جائے۔ یعنی اگر طہارت چار میں ہو جائے تو بھی ایک اور لے کہ طاق ہو جائیں اور بعض بے وقوف سفہا نام کے فقہا نے جو یہ لکھا کہ ڈھیلے کے تئیں طہارت کے وقت تین بار ٹھونک لے کہ تسبیح سے باز رہے یہ بدعت ہے اور بے اصل اور لغو حرکت ہے اور طاق لینا ڈھیلوں کا جمہور علماء کے نزدیک مستحب ہے)۔
